ٹرمپ کے غیر مہذب روّیے پرامریکی عوام سیخ پائ!!!

0
12
کامل احمر

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حالیہ سیاسی تاریخ میں صدر ٹرمپ کو اپنی مدتِ صدارت کے دوران جس قدر عوامی مخالفت اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ان کے بیانات اور طرزِ عمل سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ وہ غیر متوازن ذہنی کیفیت کا شکار ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ ایک سربراہِ مملکت کا مسلسل کسی ایک ملک، بالخصوص ایران کے خلاف تندوتیز بیانات دینا اور زمینی حقائق کے برعکس دعوے کرنا غیر معمولی فعل ہے۔ عالمی سطح پر بھی دیگر ممالک کے وزرائے اعظم اور صدور انہیں وہ اہمیت دینے سے گریزاں نظر آتے ہیں جو ایک سپر پاور کے سربراہ کا خاصہ ہوتی ہے، کیونکہ احترام جبر یا احکامات سے نہیں بلکہ حسنِ تدبیر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جب آپ دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ نامناسب زبان استعمال کریں تو ردِعمل فطری ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور نیتن یاہو سے ان کے تعلقات کو ایک ایسے پہلو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے امریکی کابینہ کی تشکیل بھی عوامی امنگوں کے برعکس معلوم ہوتی ہے۔صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنسیں اب اکثر پریس کے بجائے ایک تمثیلی پروگرام کا منظر پیش کرتی ہیں جہاں صحافیوں کی بڑی تعداد میں سے محض چند ایک ہی موجود ہوتے ہیں۔ اگر کوئی صحافی ان کی پالیسیوں یا کسی حساس معاملے پر سوال اٹھائے تو اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا اس کا بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر نیویارک ٹائمز جیسے معتبر ادارے کے نمائندوں کے ساتھ ان کا رویہ کسی اعلیٰ افسر اور ماتحت جیسا ہوتا ہے جہاں وہ کسی بھی وقت برطرفی کی دھمکی دیتے نظر آتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اتفاقاً اقتدار پانے والے بھی اکثر خود کو عوامی مقبولیت کے سانچے میں ڈھال لیتے ہیں، لیکن یہاں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ان کے دور میں بیانات کی صداقت کا گراف تیزی سے گرا ہے، جیسا کہ ٹیکس دہندگان کو دو ہزار ڈالر کا چیک بھیجنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر ایک سال گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ عوام کو سوشل میڈیا پر یہ یاد دلانا پڑ رہا ہے کہ تجارتی محصولات میں اضافے کا بوجھ بھی عام شہری ہی اٹھا رہا ہے۔امریکی دانشور طبقہ ان کے غیر مہذبانہ لب و لہجے پر مسلسل تنقید کر رہا ہے اور انہیں تاریخ کا سب سے غیر مہذب صدر قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید ان کی مقبولیت میں کمی کا واضح ثبوت ہے۔ کابینہ کے اہم عہدوں پر تعینات افراد کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خصوصاً دفاعی شعبے سے وابستہ شخصیات پر ہونے والی اخلاقی تنقید نے انتظامیہ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا فائدہ سعودی عرب جیسے ممالک کو ہو رہا ہے جبکہ امریکی عوام مہنگے پٹرول کی صورت میں اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے باہر ہونے والے جنگ مخالف مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام اس بے معنی کشیدگی کے خلاف ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی پالیسیوں سے ملک کو ترقی کی جگہ تنزلی کی طرف لے جا رہے ہیں اور ان کے خلاف مواخذے کی تحریکیں بھی زیرِ بحث ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار نے کئی نئے خدشات کو جنم دیا ہے اور ماہرینِ فلکیات و سیاسی تجزیہ نگار ان کی جلد رخصتی کے حوالے سے مختلف پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here