میلے حکمرانوں سے نجات!!!

0
4
سردار محمد نصراللہ

قارئین اور عزیزانِ وطن آج 23 مارچ 2026 ہے اور قراردادِ پاکستان کو گزرے 86 سال بیت چکے ہیں۔ 23 مارچ 1940 وہ تاریخی دن تھا جب بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں ان کے جلیل القدر رفقا نے منٹو پارک یعنی موجودہ اقبال پارک میں ایک عظیم الشان میلہ سجایا۔ اس وقت لاہور کی کل آبادی 40 ہزار نفوس پر مشتمل تھی اور تاریخ گواہ ہے کہ پورے ہندوستان سے اتنی ہی تعداد میں مرد و زن وہاں جمع تھے۔ آج کے لاہور کی آبادی ڈھائی کروڑ تک جا پہنچی ہے مگر اس عہد کی سیاست میں کیسے کیسے نامور اور باکردار لوگ موجود تھے۔ آج یہ سوچ کر دل دہل جاتا ہے کہ اگر قرارداد پیش کرنے والوں اور صدارت کرنے والی ان عظیم ہستیوں کو یہ علم ہوتا کہ ان کے بنائے ہوئے پاکستان پر میلے کچیلے لوگ حکمرانی کریں گے تو یقین جانیے وہ الٹے قدموں اپنے گھروں کو لوٹ جاتے اور پاکستان کی تخلیق کا خیال ہی دل سے نکال دیتے۔ ویسے بھی 1971 میں آدھا پاکستان ہم سے الگ ہو گیا اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ دو قومی نظریے کو کسی دشمن نے نہیں بلکہ ہم نے خود ہی ڈبو دیا۔ ہم نے 1953 میں شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے قتل اور پھر خواجہ ناظم الدین کی حکومت کی برطرفی کے بعد سامراجی مہرے محمد علی بوگرا کو جو اس وقت امریکہ میں سفیر تھا ملک کا وزیر اعظم بنا دیا اور وہیں سے میلے کچیلے حکمرانوں کا دور شروع ہوا۔ آج تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مملکت کے چاروں ستون یعنی مقننہ انتظامیہ عدلیہ اور دفاع سبھی میلے کچیلے سربراہوں کی گرفت میں ہیں۔ مملکتِ پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال اور اسے تعبیر دینے والے محمد علی جناح اس 86 ویں یومِ پاکستان پر عالمِ برزخ میں شاید اسی سوچ میں گم ہیں کہ اس معصوم قوم کے ساتھ کتنا بڑا ظلم ہوا۔ اب پچھتانے سے کیا حاصل جب چڑیا چگ گئیں کھیت مگر شاید اقبال عالمِ غیب سے سوئی ہوئی قوم کی بیداری کے لیے کوئی ایسا کلام بھیج دیں کہ یہ میلے کچیلے حکمران ملیا میٹ ہو جائیں۔قارئین اور عزیزانِ وطن حضرتِ اقبال نے ایک ترمیم کے ساتھ یہ شعر بھیجا ہے!
توڑ اْس دستِ جفا کیش کو یارب
جس نے روحِ آزادیِ کشمیر کو پامال کیا ہے
اس کی موجودہ صورت کچھ یوں ہے کہ توڑ اس دستِ جفا کیش کو یارب جس نے روحِ آزادیِ پاکستان کو پامال کیا ہے۔ آج 25 کروڑ عوام کو ان میلے کچیلے حکمرانوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی ضرورت ہے۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ ایک شخص جس کا نام عمران خان نیازی ہے اس سے یہ نام نہاد حکمران کس قدر خائف ہیں۔ جب پوری قوم ان کے سامنے نعرہِ حق بلند کرے گی تو یہ سب راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے کوئی پیرس کوئی انگلینڈ اور کوئی امریکہ اپنے مربیوں کے پاس بھاگ جائے گا۔ بس ان کے سامنے ثابت قدمی سے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے جیسے عمران خان ڈٹا ہوا ہے۔ کیا ہم بھی کبھی ایران کی طرح یہود و نصاریٰ کے سامنے استقامت کے ساتھ کھڑے ہو سکیں گے جن کی جرات نے پوری دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ جو دشمن انہیں چار دن میں ملیا میٹ کرنے نکلے تھے وہ اب اپنی سامراجیت بچانے کے لیے راہِ فرار ڈھونڈ رہے ہیں۔ ایران نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ اللہ نے انہیں عصاِ موسوی سے نوازا ہے اور جو بھی اس کے سامنے آئے گا وہ خاکستر ہو جائے گا۔ اللہ اسی قوم کو عصاِ موسوی عطا فرماتا ہے جس میں میدانِ عمل میں ڈٹ جانے کا دم ہو۔ ایران زندہ باد۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here