ایران کے جزیرہ خارگ پر دھماکے

0
8

تہران (پاکستان نیوز)دنیائے معیشت اور خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے حلقوں میں اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی جب ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نے اس اہم تزویراتی جزیرے پر دھماکوں کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کے ساحلوں کے قریب واقع جزیرہ خارگ پر یکے بعد دیگرے کئی دھماکے سنے گئے ہیں تاہم اب تک ان دھماکوں کی نوعیت اور ان سے ہونے والے جانی یا مالی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ جزیرہ ایران کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ملک کی خام تیل کی برآمدات کا نوے فیصد سے زائد حصہ اسی مقام سے عالمی منڈیوں کو روانہ کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کئی مواقع پر اس جزیرے کو نشانہ بنانے یا اس پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دی جا چکی ہیں۔ گزشتہ ماہ تیس مارچ کو ایک سماجی پیغام میں امریکی صدر نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان کی افواج ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور خاص طور پر جزیرہ خارگ کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بحیرہ فارس میں واقع یہ چھوٹا سا زمینی ٹکڑا تہران کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ زمینی کارروائی کا بنیادی ہدف بن سکتا ہے۔ تجارتی معلومات فراہم کرنے والے ادارے کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق اس جزیرے پر تیل ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش اکتیس ملین بیرل ہے اور مارچ کے آغاز میں یہاں موجود ذخائر اپنی کل گنجائش کے اٹھاون فیصد تک پہنچ چکے تھے۔ موجودہ صورتحال نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور خطے کے امن و امان کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے صورتحال کو واضح کرنے کے لیے مزید بیانات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here