واشنگٹن (پاکستان نیوز)واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کے حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی صلاحیتوں اور صدارت کے لیے ان کی موزونیت پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہے۔اس تازہ ترین جائزے کے مطابق ساٹھ فیصد امریکیوں نے سٹیٹ آف دی یونین خطاب سے قبل صدر ٹرمپ کی کارکردگی اور ان کے طرز عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ عوام کی ایک بڑی تعداد یعنی تقریباً باون فیصد افراد اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ صدر ذہنی طور پر اتنے مستحکم ہیں کہ وہ ملک کو درپیش پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر سکیں۔ خاص طور پر آزاد ووٹرز میں یہ تشویش تیزی سے بڑھی ہے جہاں صرف چھتیس فیصد افراد کا خیال ہے کہ صدر اب بھی ذہنی طور پر چاق و چوبند ہیں جبکہ گزشتہ برسوں میں یہ شرح تریپن فیصد تک تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ انتیس فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی عمر ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ اس سروے میں شامل شہریوں نے صدر کے حالیہ بیانات اور ججوں و قانون سازوں کے خلاف ان کی سخت زبان کو ان کے غیر متوازن رویے کی علامت قرار دیا ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ان تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے صدر کو مکمل طور پر فٹ قرار دے رہے ہیں لیکن عوامی سطح پر یہ احساس شدت اختیار کر چکا ہے کہ ملک کی قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جس کی ذہنی مستعدی وقت کے ساتھ ساتھ کمزور پڑ رہی ہے۔ اس صورتحال نے امریکی سیاست میں مستقبل کی قیادت اور نائب صدر کے ممکنہ کردار پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق باون فیصد عوام کا کہنا ہے کہ وہ صدر کی ذہنی حالت پر مکمل اعتماد نہیں رکھتے۔ سیاسی طور پر بھی یہ معاملہ تقسیم کا باعث بنا ہوا ہے جہاں مخالف جماعت کے اڑسٹھ فیصد حامی صدر کی صحت کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں وہیں حکمران جماعت کے صرف آٹھ فیصد ووٹرز اس تشویش میں شریک ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں بھی یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا صدر کی تقاریر میں غیر مربوط گفتگو کو دانستہ طور پر چھپایا جاتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے طبی ماہرین کی جانب سے اگرچہ انہیں مکمل طور پر تندرست قرار دیا گیا ہے لیکن پبلک میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑتا جا رہا ہے کہ امریکہ کو اس وقت ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو مکمل طور پر چاک و چوبند اور ذہنی طور پر توانا ہو۔ اس صورتحال نے نائب صدر کے کردار کی اہمیت کو بھی بڑھا دیا ہے کیونکہ عوام کا ایک بڑا حصہ اب مستقبل کی ممکنہ تبدیلیوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔














