لاہور (پاکستان نیوز)125غیر ملکی کمپنیاں پاکستان چھوڑ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق زوال پذیر ملکی معیشت کو ایک اور بہت بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ ایس ای سی پی نے پاکستان کو خیرباد کہنے والے غیر ملکی کمپنیوں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس فہرست کے مطابق ملک میں حالیہ کچھ عرصے کے بعد 125 بڑی اور چھوٹی غیر ملکی کمپنیوں اپنا کاروبار اور سرمایہ کاری ختم کر کے پاکستان کو خیرباد کہہ گئیں۔ جبکہ حکومت کے معاشی بہتری کے دعووں کے برعکس ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی سے متعلق تشویش ناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سینئر ایگزیکٹو کمیٹی ممبر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری علی عمران آصف نے رواں مالی سال میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حجم میں 51فیصد کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری جولائی تا جنوری کے دوران 694ملین ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 1.429ارب ڈالر تھی، یہ الارمنگ صورتحال ہے جس کا حکومت کو فی الفور نوٹس لے کر تدارک کرنا چاہیے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مالی سال جولائی تا جنوری مجموعی سرمایہ کاری کی آمد 2.1ارب ڈالر رہی جبکہ اخراج 1.1ارب ڈالر تک پہنچ گیا،فولیو سرمایہ کاری میں بھی منفی رجحان دیکھا گیا جہاں مالی سال 26کے پہلے سات ماہ کے دوران 287ملین ڈالر کا خالص انخلا ریکارڈ کیا گیا جو مقامی ایکویٹی اور قرضہ مارکیٹوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تسلسل سے اتار چڑھا ئوکی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی معاشی صورتحال اور ملکی میکرو اکنامک ایڈجسٹمنٹس غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاکستان کے حوالے سے اعتماد پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل ہیں،ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے طویل المدتی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے۔علی عمران آصف نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے غیر معمولی اقدامات نا گزیر ہیں جس کے تحت انہیں صرف مراعات کی پیشکش کی جائے بلکہ سرخ فیتہ بھی ختم کیا جائے ، اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بحال کیا جائے تاکہ وہ خود بھی سرمایہ کاری اور بیرون ممالک بڑی کمپنیوں اور انفرادی طو رپر سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان لانے کیلئے انگیج کریں ۔










