لاہور (پاکستان نیوز)پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک مبینہ سروے کے نتائج تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں جس میں پاکستانی معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی ایک انتہائی بھیانک تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس وائرل تحریر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کی 97 فیصد آبادی جھوٹ بولتی ہے جبکہ 93 فیصد لوگ ناپ تول میں کمی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی طرح رپورٹ میں مالی بدعنوانی، خواتین کے حقوق کی پامالی اور تشدد کے حوالے سے بھی نہایت تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ تحقیقی بنیادوں پر جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اعداد و شمار کا کسی سائنسی تحقیق یا باقاعدہ شماریاتی جائزے سے کوئی تعلق نہیں۔ ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اعداد و شمار جن میں 90 فیصد سے زائد آبادی کو براہ راست مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث دکھایا گیا ہو، وہ منطقی طور پر بھی غیر درست معلوم ہوتے ہیں۔ خاص طور پر مدارس میں بچوں کے ساتھ بدفعلی یا خواتین کی عصمت دری سے متعلق دیے گئے فیصد محض سنسنی خیزی پیدا کرنے کی کوشش لگتے ہیں کیونکہ ان کا کوئی سرکاری ریکارڈ یا دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے۔ علمی حلقوں اور سماجی ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ بغیر تحقیق کے ایسی معلومات پر یقین نہ کریں جو معاشرے میں مایوسی اور منفی تاثر پھیلانے کا باعث بنیں۔ اگرچہ معاشرے میں اخلاقی اصلاح کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، تاہم اس طرح کے غیر مصدقہ اعداد و شمار حقائق کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ ملک کے معتبر تحقیقی اداروں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بڑے سروے کے لیے نمونہ بندی اور طریقہ کار کا ہونا لازمی ہے جو ان وائرل پیغامات میں مکمل طور پر غائب ہے۔












