نیویارک (پاکستان نیوز) تجارتی لحاظ سے انتہائی اہم آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تیزی آگئی ہے جس کے تحت پاکستان، چین اور بھارت کے مال بردار جہازوں کو اس اہم تجارتی راستے سے گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع کے بعد سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بری طرح متاثر ہوئی تھی، تاہم اب وہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ اختتام ہفتہ پر اعلان کیا تھا کہ ایران اپنے سمندری راستے سے پاکستان کے 20 بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ روزانہ دو پاکستانی جہاز اس راستے سے گزریں گے۔ انہوں نے ایران کے اس اقدام کو ایک تعمیری اشارہ قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے اور خطے میں جاری جنگ کو ختم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستانی جہازوں کی محفوظ واپسی کی یقین دہانی کرائی ہے، اگرچہ ایران نے اس مخصوص دعوے پر اب تک کوئی براہ راست ردعمل نہیں دیا۔ دوسری جانب بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے میرین ٹریفک کے مطابق پیر کے روز چین کے دو بڑے کنٹینر جہاز بھی آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب رہے جو اب ملائیشیا کی بندرگاہ پورٹ کلانگ کی جانب رواں دواں ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی کئی بحری جہاز ایرانی ساحلوں کے قریب سے گزر کر بحر ہند میں داخل ہوئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں ایک نپی تلی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے جہاں وہ مکمل ناکہ بندی کے بجائے مخصوص جہازوں کو راستہ دے کر تزویراتی اشارے دے رہا ہے۔ اسی دوران بھارت کے دو بڑے جہاز بھی مائع پیٹرولیم گیس لے کر اس راستے سے گزرے ہیں۔ بھارت میں اس وقت گیس کی شدید قلت ہے اور ان جہازوں کی آمد بھارت اور ایران کے درمیان دو ہفتے قبل ہونے والے اس معاہدے کا نتیجہ ہے جس کے تحت بھارتی پرچم والے ٹینکروں کو گزرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ راستہ صرف ان ریاستوں کے لیے کھلا ہے جو امریکہ یا اسرائیل کی حلیف نہیں ہیں۔















