ہیوسٹن (پاکستان نیوز)امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طاقت اور اثر و رسوخ ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گیا ہے کیونکہ حالیہ ریپبلکن پارٹی کے اندرونی انتخابات میں ان کے نامزد کردہ امیدواروں نے پرانے اور تجربہ کار رہنماؤں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے۔ ٹیکساس کے حالیہ انتخابات میں ٹرمپ کی بھرپور حمایت کے باعث کین پینکسٹن نے ریپبلکن پارٹی کے سینیئر رہنما جان کارنن کو واضح اکثریت سے شکست دے کر سب کو حیران کر دیا۔ جان کارنن گزشتہ کئی دہائیوں سے سینیٹ میں پارٹی کا ایک معتبر چہرہ مانے جاتے تھے لیکن ٹرمپ کی مخالفت نے ان کا سیاسی سفر مشکل بنا دیا۔ اس قسم کی تبدیلیاں صرف ٹیکساس تک محدود نہیں ہیں بلکہ لوزیانا اور کینٹکی جیسی ریاستوں میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا ہے جہاں ٹرمپ کے مخالفین کو پارٹی ٹکٹ سے محروم ہونا پڑا۔ اگرچہ ٹرمپ پارٹی کے اندر اپنے وفاداروں کو جتوانے میں کامیاب ہو رہے ہیں لیکن ریپبلکن پارٹی کے مرکزی حکمت عملی سازوں اور ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جو سخت گیر امیدوار پارٹی کے اندرونی انتخابات تو آسانی سے جیت جاتے ہیں وہ نومبر 2026 کے عام وسطی مدتی انتخابات میں عام ووٹروں کو متاثر کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے اور معتدل مزاج امریکی ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ٹرمپ کے امیدواروں کے سخت نظریات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ٹیکساس میں کین پینکسٹن کی جیت کے فوری بعد ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو کی انتخابی مہم کے فنڈز میں لاکھوں ڈالر کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر معاشی مسائل اور مہنگائی کی وجہ سے موجودہ حکومت کے خلاف عوامی غصہ بڑھا بھی تو ریپبلکن پارٹی کے متنازع امیدواروں کی وجہ سے ڈیموکریٹس کو ایوان میں دوبارہ برتری حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔









