مستحقین کی جانب سے قربانی کا گوشت سستے داموں فروخت کیے جانیکا انکشاف

0
10

اسلام آباد (پاکستان نیوز)عید الاضحیٰ کے تینوں دنوں میں جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر بڑے شہری مراکز میں ایک انوکھا اور تلخ کاروباری رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف پوش علاقوں سے صدقے اور خیرات کے طور پر جمع کیا گیا قربانی کا گوشت غریب اور دیہاڑی دار طبقے کی جانب سے مقامی مارکیٹوں میں قائم عارضی مراکز اور ہوٹلوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کے مختلف گنجان آباد علاقوں اور بازاروں میں عارضی خریدار سرگرم نظر آئے جنہوں نے مستحقین سے 400 سے 500 روپے فی کلو کے حساب سے گوشت خریدا اور بعد میں اسے بڑے ہوٹلوں، پکوان سینٹرز اور قیمہ بنانے والی دکانوں کو مہنگے داموں سپلائی کر دیا۔ اس رجحان کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ملک میں جاری بدترین مہنگائی اور شدید گرمی کا موسم ہے۔ غریب خاندانوں کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ اور فریزر کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ دیر تک گوشت محفوظ نہیں رکھ سکتے، جبکہ عید کے بعد بچوں کے اسکولوں کی فیسیں، یوٹیلٹی بلز اور راشن کی خریداری کے لیے انہیں گوشت سے زیادہ نقد رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ مذہبی حلقے قربانی کے گوشت کی تجارتی بنیادوں پر خرید و فروخت کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں، لیکن معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ شدید افراط زر نے غریب عوام کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ غذائیت کے بجائے اپنی دیگر فوری اور ناگزیر مالی ضروریات کو ترجیح دیں۔ اس صورتحال نے قربانی کے روایتی سماجی ڈھانچے اور فلاحی مقاصد پر بھی کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here