روس ایران کو فوجی اڈوں کی حساس معلومات فراہم کر رہا ہے، امریکہ

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز) حالیہ دنوں میں عالمی سیاست کے منظر نامے پر ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کے ذرائع سے موصول ہونے والی مستند اطلاعات کے مطابق روس نے ایران کو ایسی حساس عسکری معلومات فراہم کی ہیں جو تہران کو خطے میں موجود امریکی بحری جہازوں، جنگی طیاروں اور دیگر اہم دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ یہ پہلا واضح موقع ہے کہ جب روس نے اس جاری تنازع میں براہ راست مداخلت کی کوشش کی ہے، جس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ روس اب مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ایک پس پردہ کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ معلومات تہران کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی اپنی جاسوسی اور نگرانی کی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں روس کے سیاروں اور جدید تکنیکی نظام سے حاصل کردہ اعداد و شمار ایران کو امریکی افواج کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکی ایوانوں کے حکام اس تعاون کے اثرات کو کم تر دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ روس کا یہ قدم خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے اور اپنی عالمی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ روس اور ایران کے مابین یہ تعاون محض معلومات کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے تزویراتی تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روس جو پہلے ہی اپنی سرحدوں پر جاری جنگ میں مصروف ہے، اب ایران کے ساتھ مل کر ایک ایسا محاذ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں امریکہ کو براہ راست چیلنج کیا جا سکے۔ اس صورتحال نے نہ صرف واشنگٹن میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے دائرہ کار میں اضافے کے خطرات کو واضح کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے ان معلومات کا استعمال امریکی فوجی اثاثوں کے لیے ایک مستقل خطرہ بن گیا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا قوی امکان ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here