نیویارک (پاکستان نیوز)ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ حملوں نے ان کے اپنے ہی حامیوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا کر دئیے ہیں اور متعدد بااثر آوازوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ جتنی طویل ہوگی، عوامی غم و غصہ اتنا ہی بڑھے گا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران میں فوجی کارروائی کے فیصلے نے ان کے سیاسی حلقوں اور میڈیا کے ساتھیوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ کی بھرپور حمایت کی تھی، اب وہ اس فوجی اقدام کو اپنے نظریات کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ سابق مشیر اسٹیو بینن، مشہور ٹی وی میزبان ٹکر کارلسن اور میگن کیلی جیسے بااثر افراد نے اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ وہ پالیسی نہیں ہے جس کے لیے عوام نے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ قدامت پسند میڈیا کے کئی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے غیر ضروری بیرونی جنگوں سے بچنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ایران پر حملے اس وعدے کی نفی معلوم ہوتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے تو ٹرمپ کے وفادار ووٹروں میں بے چینی مزید بڑھے گی، جس سے ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت واشنگٹن میں صورتحال کشیدہ ہے کیونکہ ایک طرف صدر اپنے دفاعی اقدامات کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف ان کے قریبی ساتھی اسے ایک بڑی غلطی تصور کر رہے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ خود امریکہ کی اندرونی سیاست کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔










