واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی کانگریس کے ممتاز رکن ایمی بیرا نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن کی نئی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ملک میں قانونی طور پر مقیم ہزاروں گرین کارڈ درخواست گزاروں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا ہے۔ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رہنما کا کہنا ہے کہ عارضی ویزا ہولڈرز، طلبہ اور دیگر قانونی تارکین وطن کو گرین کارڈ کے حصول کے دوران امریکہ چھوڑنے اور اپنے آبائی وطن واپس جا کر کارروائی مکمل کرنے پر مجبور کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فیصلے سے قانون پر عمل کرنے والے خاندانوں، کارکنوں اور آجروں میں بے یقینی اور خوف کی فضا پیدا ہو رہی ہے جو پہلے ہی طویل عرصے سے ویزا کے التوا کا شکار ہیں۔ یہ ردعمل امریکی محکمہ شہریت و امیگریشن کی اس نئی پالیسی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ملک کے اندر رہتے ہوئے حیثیت کی تبدیلی کو ایک معمول کا طریقہ کار قرار دینے کے بجائے ایک غیر معمولی ریلیف کا درجہ دیا گیا ہے۔ محکمے کے ترجمان زیک کاہلر نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت قانون کے اصل مقصد کی طرف لوٹ رہی ہے اور اب عارضی طور پر مقیم افراد کو چند مخصوص استثنیٰ کے علاوہ اپنے گرین کارڈ کے لیے ہوم کنٹری سے ہی رجوع کرنا ہوگا۔ حکام کے مطابق اس سے ویزا کی مدت سے زائد قیام کے رجحانات کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ملکی نظام پر دباؤ کم ہوگا تاہم ایمی بیرا نے خبردار کیا ہے کہ اس سے اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئرز، ڈاکٹروں اور محققین کی خدمات سے ملک محروم ہو جائے گا جس سے امریکی معیشت کو بڑا دھچکا لگے گا۔ انڈین تارکین وطن کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اس پالیسی کو عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا اور عدلیہ اس کے نفاذ کو معطل کر دے گی۔












