نیویارک (پاکستان نیوز) امریکی سیاست کا موجودہ منظرنامہ گہرے تضادات اور بڑھتی ہوئی نظریاتی خلیج کا واضح عکاس ہے جہاں اقتدار کی کشمکش اور سیاسی بقا کی جنگ نے جمہوری اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں واشنگٹن کے اقتدار کے گلیاروں سے اٹھنے والے طوفان اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ وہاں سیاسی مخالفت اب محض نظریاتی اختلافات تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ ذاتی عناد اور انتقامی کارروائیوں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس وقت امریکی سیاسی افق پر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے مخالفین شدید دباؤ اور عتاب کا شکار ہیں جن میں ایوانِ نمائندگان کی سرگرم مسلم رکن الہان عمر اور سینیٹ میں اکثریتی جماعت کے رہنما چک شومر نمایاں ہیں۔ الہان عمر کو ان کے بیباک اور صاف گو بیانات، خاص طور پر سابق صدر کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی وجہ سے مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں نہ صرف اہم پارلیمانی کمیٹیوں سے دور رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں بلکہ ان کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ اسی طرح چک شومر بھی اپنی سیاسی حیثیت اور فیصلوں کی وجہ سے مخالفین کے نشانے پر ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ نظام میں طاقتور حلقوں سے اختلاف کی قیمت کتنی بھاری ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال اس نام نہاد آزادیِ اظہارِ رائے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا دعویٰ امریکی آئین بڑے فخر سے کرتا ہے۔ یہ عتاب صرف ڈیموکریٹک ارکان تک محدود نہیں بلکہ خود ریپبلکن پارٹی کے اندرونی حلقے اور سابقہ انتظامیہ کے اہم عہدیدار بھی اس سیاسی انتقام کی لپیٹ میں ہیں۔ سابق نائب صدر مائیک پینس کو آئین کو ترجیح دینے اور سابق اٹارنی جنرل بل بار کو موجودہ قیادت کے رویے کو منصب کے لیے غیر موزوں قرار دینے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اسی طرح سابق وزرائے دفاع مارک ایسپر اور جیمز میٹس، سابق خاتون رکن اسمبلی لز چینی اور سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس مارک ملی کو بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے کیونکہ ان رہنماؤں نے ہمیشہ آئین کی بالادستی کی بات کی اور ملک کو تقسیم کرنے والی پالیسیوں کی مخالفت کی۔ قانون ساز اداروں کے اندر بھی صورتحال مختلف نہیں ہے جہاں کانگریس کے کئی ارکان پارٹی لائن سے ہٹ کر آواز اٹھانے کی پاداش میں زیرِ عتاب ہیں۔ سینیٹر رینڈ پال وینزویلا میں جارحانہ فوجی اقدامات اور صدارتی اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ سینیٹر لیزا مرکووسکی نے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا ہے۔ سینیٹر تھام ٹلس نے وفاقی تحقیقات میں مداخلت اور قریبی ساتھیوں کے قانونی اخراجات کے لیے مخصوص فنڈز کے قیام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سینیٹر سوسن کولنز نے وینزویلا میں زمینی فوج بھیجنے کی مخالفت کی ہے، جبکہ نمائندہ تھامس میسی اور مارجری ٹیلر گرین جیسے رہنما بھی اندرونی پالیسیوں اور عوامی مسائل پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے اپنی ہی قیادت سے نالاں نظر آتے ہیں۔ اس سیاسی کشمکش کا ایک اور پریشان کن پہلو ملک میں بسنے والی مسلم برادری اور ان کی سیاسی قیادت کے خلاف بڑھتی ہوئی مشکلات ہیں۔ امریکہ میں 2026 میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے پیشِ نظر مسلم امیدواروں کے لیے سیاسی میدان کو دانستہ طور پر تنگ کیا جا رہا ہے۔ وہ مسلم رہنما جو قومی یا مقامی سطح پر انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں مختلف انتظامی، مالی اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کی انتخابی مہمات کو مشکوک بنا کر پیش کرنے اور ان کے نظریات کو ملکی مفادات کے متصادم قرار دینے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔ اس کا مقصد واضح ہے کہ مسلم برادری کو فیصلہ سازی کے عمل اور قانون ساز اداروں سے دور رکھا جائے تاکہ وہ امریکی پالیسیوں پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والے معاشرے میں اب بھی تعصب اور امتیازی سلوک کی جڑیں کتنی گہری ہیں، جہاں ایک مخصوص طبقے کو محض اس کے عقیدے اور پسِ منظر کی وجہ سے آگے بڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے بڑے رہنما اس انتظامیہ کے خلاف ایک وسیع مزاحمت کی قیادت کر رہے ہیں۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے گزشتہ نومبر کی انتخابی ناکامی کے اسباب کا گہرا جائزہ لینے اور ان پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی تیار کرنے پر زور دیا ہے۔ الینوائے کے گورنر جے بی پرٹزکر نے انتظامیہ کے اقدامات کے خلاف عوامی متحرک سازی کی اپیل کی ہے، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو، سینیٹر برنی سینڈرز اور سینیٹر کرس مبرفی پارلیمانی اور عوامی سطح پر اس مزاحمت کو منظم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رچرڈ نیل جیسے رہنما ٹیکسوں میں چھوٹ کے پیکیج کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ تمام رہنما فوجی اقدامات، صدارتی اختیارات کے غلط استعمال اور انٹیلیجنس کے شعبے میں بل پلٹے جیسے ناتجربہ کار افراد کی تع?نات? پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس جاری نظریاتی جنگ کا ایک تازہ اور انتہائی حساس نمونہ نیویارک شہر میں دیکھنے کو ملا ہے، جہاں اسرائیل کے حق میں نکالی جانے والی سالانہ تقریبِ پرچم کشائی یا عوامی مارچ میں مسلم میئر کی عدم شرکت نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ مسلم میئر کی جانب سے اس تقریب میں شرکت سے انکار کو ایک اصول پسندانہ فیصلہ قرار دیا جا رہا تھا، لیکن اس فیصلے کے فوراً بعد ہی ان کے خلاف اندرونی طور پر سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ پسِ پردہ سرگرم بااثر گروہ اور مالیاتی طور پر مضبوط لابی اس انکار کو ایک ناقابلِ معافی جرم تصور کر رہی ہے اور میئر کی انتظامیہ کو ناکام بنانے کے لیے خفیہ گٹھ جوڑ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور بلدیاتی سطح پر ان کے منصوبوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں سیاسی طور پر مفلوج کیا جا سکے۔ یہ اندرونی سازشیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ نیویارک جیسے کثیر الثقافتی شہر میں بھی مخصوص خارجہ مفادات کو مقامی سیاست اور عوامی نمائندوں کے فیصلوں پر کس طرح زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ تمام واقعات اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ امریکی سیاسی ڈھانچہ اس وقت شدید اندرونی دباؤ کا شکار ہے۔ ٹرمپ مخالف رہنماؤں کو دیوار سے لگانا، مسلم امیدواروں کے لیے سیاسی راستے مسدود کرنا اور مسلم میئر کے خلاف پسِ پردہ سازشیں دراصل ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف پسماندہ طبقات کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ اس سے عام شہریوں کا انتخابی اور سیاسی نظام پر سے اعتماد بھی اٹھتا جا رہا ہے۔ اگر امریکی مقتدرہ نے تعصب اور بدلے کی اس روش کو ترک نہ کیا تو مستقبل قریب میں وہاں کا سیاسی بحران مزید گہرا ہو جائے گا اور معاشرتی امن تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ صحافتی اور تجزیاتی نقطہ نظر سے یہ واضح ہے کہ امریکی جمہوریت اس وقت تاریخ کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہی ہے جہاں اسے بیرونی خطرات سے زیادہ اپنے ہی اندرونی تضادات اور ناانصافیوں کا سامنا ہے۔










