سڈنی (پاکستان نیوز) میلبورن اور سڈنی کی عدالتوں نے شام سے واپس آنیوالی تین آسٹریلوی خواتین کو دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ خواتین ان تیرہ افراد میں شامل ہیں جو حال ہی میں شام کے صحرائی علاقے میں واقع روج پناہ گزین کیمپ سے قطر کے راستے آسٹریلیا پہنچے ہیں۔ پولیس کے مطابق باون سالہ کوثر عباس اور ان کی اکتیس سالہ بیٹی زینب احمد پر ایک یزیدی خاتون کو دس ہزار ڈالرز میں خریدنے اور اسے اپنے گھر میں قیدی بنا کر رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ عباس خاندان پر الزام ہے کہ وہ 2014 میں دولت اسلامیہ کی نام نہاد خلافت کے دوران شام منتقل ہوا تھا۔ ان دونوں خواتین کو چار اور دو غلامی کے جرائم کے تحت چارج کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک الزام پر پچیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب سڈنی ہوائی اڈے پر گرفتار ہونے والی بتیس سالہ جنائی سفر پر ایک دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے اور ممنوعہ علاقوں کا سفر کرنے کے الزامات ہیں۔ ان کے وکیل نے ان کے نو سالہ بچے کی نفسیاتی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ انہیں ان والدین سے کوئی ہمدردی نہیں ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو ہولناک حالات میں دھکیلا تاہم حکومت ان معصوم بچوں کی بحالی کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی کیونکہ وہ اپنے والدین کے غلط فیصلوں کا شکار ہوئے ہیں۔ شام کے کیمپوں میں اب بھی اکیس آسٹریلوی خواتین اور بچے موجود ہیں جن کی واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔











