حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمایئے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ”آپ اپنے یقین کو شک نہ بنائیں( یعنی روزی کا ملنا یقینی ہے اس کی تلاش میں اس طرح اور اتنا منہمک نہ ہوں کہ آپ کو اس میں کوئی شک ہے)۔ اور آپ یہ بات جان لیں کہ آپ کی دنیا تو صرف اتنی ہے جو آپ کو ملی اور آپ نے اسے آگے روانہ کردیا یا تقسیم کرکے برابر کردیا یا پہن کر پرانا کردیا۔ ”انسان کا رزق تو صرف اتنا ہے پھر بھی حلال حرام جائزو ناجائز کی تمیز بھول جاتا ہے۔مثال کے طور پر۔ ہم سب جانتے ہیں کہ گدھ ایک ایسا پرندہ ہے جو مردار کھاتا ہے۔ وہ کھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا پیٹ بہت بھر جاتا ہے۔ لیکن اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی۔ پھر وہ بھاگتا ہے اور سارا کھایا ہوا الٹ دیتا ہے۔ معدہ خالی ہوتا ہے تو وہ دوبارہ کھانا شروع کردیتا ہے۔ ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے۔ حرام کھانے والے کا پیٹ، گھر اور تجوریاں بھر جاتی ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی۔ اسے مستقبل محفوظ کرنے کے جھانسے میں اورسے اور کی خواہش بھگاتی رہتی ہے۔ اس میں وہ دوسروں سے زیادتیاں کرتا ہے۔ جہاں اس کے بس میں ہو وہ نہیں چھوڑتا۔ زیادہ مال بنانے کیلئے بظاہر حلال نظر آنے والے طریقوں سے حرام کے چور راستے ڈھونڈھ لیتا ہے۔ باتوں اور دکھاوے سے خود کو اور دوسروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسروں کی مدد کرتا ہے۔ صدقات دیتا ہے۔۔۔۔ لیکن اس کی بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی۔۔۔۔ اندر سے ایک انجانی سی لہر گا ہے بگا ہے اسے ایک بے نام سٹریس میں رکھتی ہے۔
آئیں۔۔۔۔ ہم ایک لمحے کو تھم جائیں!
اپنے کمانے کے ذریعوں پر غور کریں۔ ڈھونڈیں۔۔۔ کہیں کسی باریک سے سوراخ سے کوئی حرام کا روپیہ آکر ہمارے حلال کو گدلا تو نہیں کر رہا یاد رکھیں! ہمیں زندگی گزارنے کیلئے برکت کی ضرورت ہے۔۔۔ کثرت کی نہیں اللہ تعالیٰ ہمیں رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زندگیوں، گھروں اور نسلوں میں خیروبرکت رکھے۔
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
٭٭٭

















