امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائیوں نے مشرقِ وسطی کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اگرچہ مختلف فریقین کی جانب سے بیانات اور دعوے سامنے آ رہے ہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے اور اس کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ایران پر حملوں کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس بحران کا دائرہ کہاں تک پھیل سکتا ہے۔ ایران خطے میں ایک بااثر ملک سمجھا جاتا ہے اور اس کے مختلف علاقائی گروہوں اور حکومتوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اگر کشیدگی طویل ہوتی ہے تو جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جس سے خلیجی ممالک، بحیرہ احمر اور مشرقی بحیرہ روم تک عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔ عالمی منڈیوں میں بے چینی پہلے ہی دیکھی جا رہی ہے اور سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے لیے صورتحال خاص اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان جغرافیائی طور پر ایران کا ہمسایہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد موجود ہے۔ اگر ایران کے اندر سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو سرحدی علاقوں میں نقل و حرکت، غیر قانونی اسمگلنگ اور ممکنہ مہاجرین کی آمد جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ بلوچستان پہلے ہی سکیورٹی چیلنجز سے دوچار رہا ہے، اس لیے کسی بھی علاقائی جنگ کے اثرات وہاں زیادہ شدت سے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔معاشی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ ایران تیل اور گیس کے بڑے ذخائر کا حامل ملک ہے اور مشرقِ وسطی عالمی توانائی منڈی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ جنگ یا طویل کشیدگی کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ تقریباً یقینی تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان جیسا درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والا ملک بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ مہنگائی میں اضافہ، تجارتی خسارہ اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دبائوجیسے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ پہلے ہی معاشی استحکام ایک بڑا چیلنج ہے، لہٰذا توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ معیشت پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔داخلی سطح پر ایک اور حساس پہلو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ہے۔ مشرقِ وسطی کی کشیدگی ماضی میں بھی پاکستان کے اندر مذہبی جذبات کو متاثر کرتی رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں بیانیے تیزی سے پھیلتے ہیں اور بیرونی تنازعات کا اثر اندرونی سیاست اور سماجی ماحول پر پڑ سکتا ہے۔ ریاستی اداروں کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا نفرت انگیز مہم کا بروقت تدارک کریں تاکہ قومی یکجہتی متاثر نہ ہو۔سفارتی محاذ پر پاکستان کو نہایت متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ ایک طرف ایران ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، دوسری طرف امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے طویل المدتی تعلقات ہیں۔ ایسے حالات میں کھلی حمایت یا مخالفت کے بجائے محتاط اور اصولی مؤقف اختیار کرنا دانشمندی ہوگی۔ پاکستان ماضی میں بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے، اور اس بار بھی امن و استحکام کی کوششوں کی حمایت اس کے مفاد میں ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مشرقِ وسطی کے مختلف ممالک میں کام کرتی ہے۔ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو ان کی سلامتی اور ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ستون ہیں۔ اس لیے حکومت کو ہنگامی منصوبہ بندی اور قونصلر تیاریوں پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ جذبات کے بجائے دانش اور تدبر سے کام لیا جائے۔ علاقائی جنگیں کبھی محدود نہیں رہتیں اور ان کے اثرات سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ داخلی استحکام کو مضبوط کرے، سفارتی سطح پر فعال رہے اور کسی بھی ممکنہ بحران کے لیے پیشگی تیاری کرے۔ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں محتاط حکمتِ عملی ہی قومی مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے۔
٭٭٭











