مشرقِ وسطیٰ کا آتش فشاں اور سعودیہ کا متنازع کردار
مارچ 2026 کے ان خونی ایام میں مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے ہولناک آتش فشاں کی مانند دہک رہا ہے جس کے لاوے نے نہ صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے بلکہ اس کی تپش پوری دنیا کے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کو جھلسا رہی ہے۔ اس سنگین ترین بحران میں چین کا کردار بظاہر ایک پْراسرار خاموشی کا عکاس نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں بیجنگ نے ایک ایسی “سفارتی شطرنج” بچھا رکھی ہے جہاں وہ براہِ راست جنگ میں کودنے کے بجائے پسِ پردہ ایران کی تکنیکی اور دفاعی صلاحیتوں کو سہارا دے رہا ہے تاکہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکا جا سکے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے سخت بیانات، جن میں اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور کسی بھی ملک کی خود مختاری پر کاری ضرب قرار دیا گیا ہے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ بیجنگ تہران کو تنہا چھوڑنے کے حق میں نہیں ہے، کیونکہ ایران سے سستے تیل کی بلا تعطل فراہمی چین کی اپنی صنعتی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال کا سب سے تشویشناک اور ”تاریک پہلو” سعودی عرب کا وہ دوہرا اور منافقانہ کردار ہے جو اس جنگی ماحول میں شدت پسندی کو ہوا دے رہا ہے، کیونکہ ایک طرف تو ریاض عالمِ اسلام کے اتحاد کا راگ الاپ رہا ہے مگر دوسری طرف اس نے اپنی فضائی حدود کو امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں کے لیے خاموشی سے کھول دیا ہے تاکہ وہ ایران کی اہم تنصیبات پر مہلک حملے کر سکیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سعودی عرب نے اپنے دیرینہ حریف ایران کو کمزور کرنے کے لیے نہ صرف خفیہ انٹیلی جنس معلومات واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ شیئر کی ہیں بلکہ اپنے جدید میزائل دفاعی نظام کو بھی اس طرح ترتیب دیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے جوابی حملوں کو ناکام بنا سکے، جو کہ خطے کے مسلم ممالک کے درمیان رہی سہی ہم آہنگی کو مکمل طور پر دفن کرنے کے مترادف ہے۔ سعودی عرب کا یہ “پسِ پردہ تعاون” دراصل ایران کے خلاف ایک ایسی غیر علانیہ جنگ ہے جس نے تہران کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی جوابی کارروائیوں کا رخ نہ صرف اسرائیل بلکہ ان “خفیہ اتحادیوں” کی جانب بھی موڑ دے جنہوں نے مشکل وقت میں اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ عالمی معیشت پر اس ٹکراؤ کے اثرات کسی قیامت سے کم نہیں ہیں، کیونکہ برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں 12 فیصد سے زائد کا اچانک اضافہ اور اس کا 82 ڈالر فی بیرل کی سطح کو عبور کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک بدترین معاشی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے اور ایران اپنے دفاع میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے حتمی فیصلے پر عمل درآمد کر دیتا ہے، تو دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کا 30 فیصد حصہ منجمد ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں قیمتیں باآسانی 100 سے 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان کھڑا کر دے گی جسے سنبھالنا کسی بھی حکومت کے لیے ناممکن ہوگا، بلکہ یہ عالمی سپلائی چین کو بھی مفلوج کر دے گی جس سے خوراک اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ بحران اب صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسی عالمی جنگ کی بنیاد بنتا جا رہا ہے جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر چھوٹے ممالک کو ایندھن کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ جہاں چین اپنی معیشت بچانے کے لیے محتاط ہے اور روس پسِ پردہ ایران کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی میں مصروف ہے، وہیں سعودی عرب جیسی علاقائی طاقتوں کا “تاریک کردار” اس آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے، جو کسی بھی وقت پوری دنیا کو ایک ایسی تباہ کن ایٹمی یا روایتی جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔ اس وقت انسانیت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں سفارت کاری کی ناکامی کا مطلب کروڑوں انسانوں کی ہلاکت اور عالمی نقشے کی مکمل تبدیلی ہو سکتا ہے۔ میدانِ جنگ کی موجودہ صورتحال محض روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ انسانی تاریخ کی جدید ترین اور مہلک ترین ٹیکنالوجی کے امتحان کا ذریعہ بن چکی ہے، جہاں ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کے تحت اپنے جدید ترین ‘فتاح’ جیسے ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال شروع کر دیا ہے جو آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتے ہوئے کسی بھی موجودہ دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میزائلوں کے مقابلے میں اسرائیل نے اپنے شہروں اور فوجی تنصیبات کے گرد ‘ایرو 3’ اور ‘ڈیوڈز سلینگ’جیسی کثیر الجہتی دفاعی ڈھالیں کھڑی کر رکھی ہیں، جن کا مقصد فضا میں ہی دشمن کے بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنا ہے، مگر ایرانی میزائلوں کی بڑی تعداد اور ان کی غیر متوقع رفتار نے ان مہنگے ترین دفاعی نظاموں کی افادیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دئیے ہیں۔
دوسری جانب، ایران نے اپنے ‘شاہدـ136’ جیسے خودکش ڈرونز کے غول کے غول روانہ کر کے اسرائیلی اور امریکی ریڈار سسٹم کو الجھانے کی پالیسی اپنائی ہے، جس کا مقصد دشمن کے دفاعی نظام کو مصروف رکھ کر اپنے بھاری میزائلوں کے لیے راستہ صاف کرنا ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ نے اپنے ‘ایفـ35’ اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں اور خلیج میں موجود اپنے بحری بیڑوں سے لیس ‘ایجس’ بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم کو متحرک کر دیا ہے تاکہ ایرانی سرزمین سے اٹھنے والے ہر خطرے کو سمندر کے اوپر ہی ختم کیا جا سکے۔ یہ ٹیکنالوجیکل جنگ اس وقت اپنے عروج پر ہے جہاں ایک طرف ایران کے پاس زیرِ زمین ‘میزائل شہر’ ہیں جو سیٹلائٹ کی نظروں سے محفوظ ہیں، تو دوسری طرف اسرائیل کے پاس دنیا کا جدید ترین سائبر یونٹ ‘8200’ ہے جو ایرانی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو ڈیجیٹل حملوں کے ذریعے مفلوج کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔
اس عسکری دوڑ میں سعودی عرب کا کردار ایک بار پھر ‘تاریک’ صورت اختیار کر جاتا ہے، کیونکہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے اپنے ‘پیٹریاٹ’ میزائل سسٹم کو اس طرح فعال کر رکھا ہے کہ وہ ایران سے یمن یا عراق کی طرف سے آنے والے کسی بھی جوابی ڈرون یا میزائل کو روک سکے، جس سے وہ بالواسطہ طور پر اسرائیل اور امریکہ کو ایک محفوظ “بیک اینڈ” فراہم کر رہا ہے۔ جنگ کے اس پھیلتے ہوئے دائرے میں جہاں ایک طرف ہائپرسونک ٹیکنالوجی ہے اور دوسری طرف لیزر پر مبنی دفاعی نظام، وہاں انسانی جانوں کا زیاں اور عالمی معیشت کی تباہی اس جدید ترین حربی جنون کی سب سے بڑی قیمت ثابت ہو رہی ہے۔ یہ ہتھیار محض لوہا اور بارود نہیں بلکہ وہ آلاتِ قتل ہیں جو اگر قابو سے باہر ہوئے تو پوری تہذیب کو راکھ کے ڈھیر میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔













