دیکھ کبیرہ رویا، افراتفری، جنگ اور احتجاج!! !

0
11
کامل احمر

اسرائیل نے اپنے ناپاک اور ظالمانہ ارادوں میں بالآخر کامیاب ہوگیا، عرصہ سے اسکی کوشش تھی کہ وہ امریکہ کی پشت پر سوار ہو کر ایران پر حملہ کردے جو اسکے ارادوں میں آخری رکاوٹ تھی۔ ویسے امریکہ ایک جنگجو ملک ہے جب ہم یہاں آئے 1972 تھا نکسن صدر تھے ان پر وائر گیٹ اسکینڈل کا مقدمہ چل رہا تھا اور کانگریس نے انہیںIMPEACH کرکے اسرائیل کو فحاش جرائم کے دروازے کھول کر دے دیئے۔ جمی کارٹر نے بے حد کوشش کی کہ امریکہ کو جنگ سے دور رکھا جائے اس یاسر عرفات فلسطینیوں کا لیڈر تھا اور انہوں نے اسے بلا کر اسرائیل اور اردن کا امن معاہدہ کرا دیا مصر کا معاہدہ 1979 میں ہوا تھا۔ اور اسکے بعد اردن کے ساتھ معاہدہ ہوا امن کا تاریخ میں جمی کارٹر کو اچھے نام سے یاد کیا جائے گا۔ لیکن ساتھ ہی صدر بش اور انکے صاحبزادے بش کو تاریخ کے اندھیرے میں دھکیلا جائے گا۔ جارج ڈبلیو بش نے جھوٹ کا سہارا لے کر ایک بنی بنائی عراق کی حکومت کو برباد کیا اور صدام حسین کو عین عید کے دن پھانسی پر چڑھا دیا بعد میں معلوم ہوا کہ صدام کے پاس تباہ کن ہتھیار نہیں تھے اور کمانڈر انچیف نے جھوٹ کی بنیاد پر بش کو مجبوم کرکے عراق پر کارپیٹ بمباری کی تھی لاکھوں عراقی مرے اور زخمی ہوگئے۔ ملک تتر بتر ہوگیا نہ صرف یہ بلکہ لائبریریوں کو بھی آگ لگائی۔ جو صرف ظالم منگول کا شیوا تھا۔ اس کے بعد لیبیا پر ہاتھ مارا۔ قدافی بھی ختم ہوگیا اور لیبیا جیسا پرسکون ملک تباہ وبرباد ہوگیا۔ امریکہ کو گیس کے کنوئیں مل گئے اور اسرائیل کو زمین مل گئی۔ شام تک اسرائیل قابض ہے۔ عملی طور پر صرف ایران رہ گیا تھا اور عرصہ سے اسرائیل اس بھاگ دوڑ میں تھا کہ کس طرح امریکہ کو شامل کرکے ایران کو بھی تتر بتر کردے اللہ نے اس کی سنی۔ اور نیتن یاہو کے پچھلے سال وہائٹ ہائوس میں سات پھیرے کام آئے۔ نہ صرف یہ بلکہ پہلے ہی ٹرمپ کو غزہ کی زمین پر حصہ دار بنایا۔ اس تمام سازش میں یورپ خاموش رہا اور روس اور چین بڑی طاقتیں ہونے کے باوجود کھل کر سامنے نہیں آرہیں کہ یوکرائن کے معاملے میں صدر ٹرمپ نے پلٹا کھا کر روس سے خفیہ معاہدہ کیا ہے۔ کہ تم اپنے کام سے کام رکھو اور ہم جو کر رہے ہیں مخالفت نہ کرو ۔رہا چین تو وہ اپنے ترقیاتی مراحل میں رکاوٹ ناہیں چاہتا۔ ایران سے یورپ میں مذاکرات جاری تھے کہ اسرائیل نے صدر ٹرمپ کو بلیک میل کرکے ایک اسرائیلی شیطان جیفری ایپسٹین کے نابالغ لڑکیوں کے اسکینڈل پر پردہ ڈالنے کیلئے۔”چلو چلو جلدی کرو ورنہ ڈیموکریٹ اور پریس تمہیں ننگا کردے گا” کے تحت بالآخر ٹرمپ کو گھسیٹ ہی لیا اور وہ ایران کے ساتھ ادھوری کانفرنس چھوڑ کر نیتن یاہو کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر ایران پر حملہ کر بیٹھے۔ پہلے ہی دن سپریم لیڈر آیت اللہ علی خمینی کو شہید کردیا ہر چند کہ ایرانی احتجاج کیلئے سڑکوں پر ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کو شوق ہے کہ وہ پچھلے تمام صدروں سے اس دہشت گردی میں سب سے آگے ہوں اور لگتا ہے وہ کامیاب ہوجائینگے۔ امریکہ مشہور سینئر صحافی ہیں ٹکرکارسن انہوں نے پچھلے دنوں اپنے یوٹیوب چینل پر آکر اسرائیل کیلئے سخت الفاظ کہے ”اسرائیل سب سے زیادہ پرتشدد ملک ہے” بالآخر نتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو جنگ میں جھونک دیا۔ ہر چند کے وہائٹ ہائوس کے علاوہ ہر بڑے شہر میں اس فیگ کے خلاف احتجاج شروع ہوچکے ہیں لیکن پہلے کی طرح ان کا اثر نہیں ہوگا کہ کل ہی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں پوچھا گیا تھا ”صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے سے آپ خوش ہیں یا نہیں دوسرے معنوں میں راضی ہیں یا نہیں اور آپ کو جان کر سخت مایوسی ہوگی کہ جواب میں ڈھائی ہزار امریکیوں نے صدر ٹرمپ کے اقدام کو سراہتے ہوئے WELDONE لکھا ہے کمینٹ میں یہ وہ امریکن ہیں جنہیں مالی فائدے کی امید ہے جیسے اسٹاک مارکیٹ ایک دم اوپر چلی گئی ہے صدر کے اس فیصلے سے ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کے شیئر بھی اوپر ہیں کہ ہر ملک میں (مڈل ایسٹ اور دوسرے چھوٹے افریقی ممالک) ہتھیاروں کے آرڈر آرہے ہیں اور ٹیکساس کیلیفورنیا، ایری زونا، فلاریڈا اور ٹینیسی کی ریاستیں خوش ہیں اور یو ایس آرمز اور امیونیشن انڈسٹری دبا کے اوور ٹائمز کر رہی ہے۔ ملاحظہ ہو ایران پر حملے سے پہلے امریکہ نے پاکستان کو بھی افغانستان میں اپنی بہادری چمکانے کا کام دے دیا جس کا کوئی جواز نہیں لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں آرمی کا کہنا ہے طالبان حملے کر رہے تھے اور ہمارا بہت جانی نقصان ہوا ہے۔ لہذا ہم انہیں نیست ونابود کردینگے ان کا کہنا صحیح تھا کہ کابل میں حکومت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ نتیجے میں297 افغانی شہید ہوئے ہیں۔ 450 سے زیادہ زخمی، 89 چیک پوسٹ تباہ کی گئی ہیں۔18 پر قبضہ کرلیا ہے۔ دوسرے معنی میں مسلمان مسلمان کو مار رہا ہے صدر ٹرمپ کے کہنے پر جن کا کہنا ہے میں مداخلت نہیں کرونگا جب شروع انہوں نے کرایا ہے تو بولنے کی بھی کیا ضرورت ہے ہمیشہ بول کر پکڑے گئے ہیں اب شہید کسے کہیں سوال یہ ہے؟
یہ جنگ بھی ہمیشہ کی طرح کانگریس کی اجازت کے بغیر شروع کی گئی ہے نتن یاہو کے علاوہ دنیا میں یہ جنگ کسی کو پسند نہیں جون مرشیمر کا کہنا ہے امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس میں شریک ہو لیکن نتن یاہو نے گھیسٹ لیا بہت ممکن ہے نتن یاہو نے ٹرمپ کے داماد جاریڈ کشنر کو پیچھے لگایا ہو( خیال رہے نتن یاہو اور جاریڈکشنر، غزہ کی زمین کے شراکت دار ہیں) اور کشنر نے صدر کی باہوں میں ہاتھ ڈال کر کچھ اس طرح کہا ہو” ڈیڈی پلیز پڑھین نا آگے” داماد بھی کیا چیز ہے بلیک میل کرسکتا ہے جب چاہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے وہ IMPEACH ہونگے اگر وہ مڈٹرم الیکشن نہ جیت سکے جس کا قومی امکان ہے اور ہم کہتے ہیں نہیں ہونگے کہ اسرائیل کی لابی AIPAC انہیں بچائے گی جس کے نیچے امریکہ کے 95 فیصد سینیٹر اور کانگریس مین اور وومین ہیں۔ اور وہ سب دم دبائےAIPAC کے حکم کے منتظر ہیں۔ ایران اور امریکہ کی جنگ کس سمت بیٹھے گی شاہد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کو بٹھایا جائے گا۔ ایسا تو ہوتا رہتا ہے ایسے ویسے ہنگاموں میں یہاں یاد آتی ہے کبیر داس کی یہ محاورہ کاری
رنگی کو نارنگی کہیں بنے دودھ کو کھویا
چلتی کو گاڑی کہیں، دیکھ کبیرہ رویا
آپ بھی یہ ہی کہینگے جب دنیا میں اتنا کچھ بے معنی اور ظالمانہ رویہ ہر طرف پھیلا ہوا ہو طاقت ور طاقت کے زوم میں چیخ چیخ کر کہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس یا طاقت ہی کو صحیح کہو۔ کمزور خاموش رہے پاکستان میں تو پچھلے کئی سالوں سے ہو رہا ہے اور دیکھ کبیرہ رویا کی کہاوت جگہ جگہ ہے شاید نئی جنریشن کو معلوم نہ ہو اور یہ بھی کہ وہ اپنا ملک چھوڑ چھوڑ کہوں بھاگ رہے ہیں احتجاج کرنا جرم ہے کراچی اور اسلام آباد میں حکمرانوں اور عوام کے درمیان جنگ جاری ہے حکومت کے پاس ہتھیار ہیں عوام نہتے ہیں اور وہ پہلے سے دیئے گئے حکم پر ماری کر رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کراچی میں امریکی کونسلیٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے 30 افراد مارے گئے ہیں عوام خمینی کے شہید ہونے پر غصہ نکال رہے تھے۔
کراچی کے علاوہ، لاہور، اسلام آباد، پشاور، ملتان اور گلگت بلتستان میں بھی خمینی سے ہمدردی کے لئے احتجاج جاری ہے۔ اس احتجاج میں اہل تشیع اور سنی حضرات شامل ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here