اگر شائقین کرکٹ کو اسٹیڈیم میں آکر پاکستان سپر لیگ کے میچوں کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کتے اور بلیوں پر بھی یہ قانون لاگو تھا۔ لہذا قذافی اسٹیڈیم میں لاہور قلندر ز اور کراچی کنگز کے مابین میچ کے دوران بلیوں اور کتوں کو متعدد مرتبہ مٹر گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعض اوقات تو اسٹیڈیم کے اہلکاروں نے کتے کو ڈنڈا لے کر بھگانے کی کوشش بھی کی۔ خدا کا شکر ہے کہ کتے نے کسی کو کاٹا نہیں ورنہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی واجب الادا رقم میں مزید اضافہ ہوجاتا کیونکہ لوگ بھی باتوں کا بتنگڑ بنا دیتے کہ چوہدری جی کو قذافی اسٹیڈیم میں کتے نے کاٹ لیا تھا۔بہرکیف اصل کہانی میچ کی ہے جس میں لاہور قلندرز کی ٹیم صرف 128 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ دوسرے میچوں میں تو صرف ایک کھلاڑی اتنا اسکور بنا لیتا ہے۔ آخر پاکستان کرکٹ ٹیم کا معیار اتنا زوال پذیر کیوں ہوگیا ہے؟ جی ہاں اس میچ کو کم ترین اسکور والا کھیل ہی کہا جاسکتا ہے اور کراچی کنگز کی ٹیم کو خوش قسمت جس نے آخری اوور کی تیسری گیند پر میچ کا کایا پلٹ دیا۔ عباس آفریدی کا ایک چھکا اور ایک چوکا کراچی کنگز کیلئے ایک یادگار اسکور بن گیا۔ ابتدائی لمحات میں کراچی کنگز کا کھیل انتہائی افسوسناک تھا جس میں ڈیوڈ وارنر فوراً ہی پویلین لوٹ گئے اور ان کے بعد سلمان علی آغا نے ان کی پیروی کی۔ جب مجموعی اسکور 11 رنز تھا تو دو کھلاڑی آؤٹ تھے۔ وسیم کنگز کیلئے ایک کامیاب کمانڈر ثابت ہوئے جنہوں نے 38 رنز بناکر ٹیم میں جان ڈالی۔ سعد بیگ اور معین علی نے بھی اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ معین علی کی سست رفتاری اور چھکے مارنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہوجانا ان کے چاہنے والوں پر کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑ سکا۔ لاہور کے بلے بازوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اپنی مایوس کن کارکردگی کو نظر انداز کرکے جارحانہ گیند بازی کے ذریعے میچ کو جیت لیں گے لیکن کراچی کنگز کی شاندار بلے بازی نے ان کے اس خواب کو چکنا چور کردیا۔ تاہم شاہین آفریدی کا چار وکٹیں لینا ایک حیرتناک امر ہے شاید وہ اپنی کپتانی کا بھرم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کرکٹ اور نغموں کا ساتھ پل پل کا ہے ملاحظہ کیجئے ایک مختصر سا نغمہ جو میں نے کراچی کنگز پر موزوں کیا ہے:
Let it be, let take it
We are the Karachi
We are the Kings
Let it be beat our foes
Make us friends
Who we love, let it be
We are the Kings
We are the Karachi
Did not we do show to Qalandar
Did not we fly Zalmi to sky
We are the Kings
We are the Karachi
کرکٹ کی دنیا کی سب سے اہم خبر یہ ہے کہ پاکستان ٹیم کے فاسٹ بولر پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے دو کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے جیسے وہ کوئی منشیات کے سوداگر ہوں۔ نسیم شاہ کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے بنیادی حقوق کو استعمال کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور موجودہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے خلاف ایک جملہ کسا۔ مریم نواز جو پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں آئی تھیں جہاں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان میچ ہونا تھا نسیم شاہ نے سوشل میڈیا پر وزیر اعلی مریم نواز کے بارے میں یہ تحریر کیا کہ آخر ان کا استقبال لارڈز کی ملکہ کی طرح کیوں کیا جارہا ہے۔ نسیم شاہ کی اگلے ہی دن تادیبی کمیٹی کے سامنے پیشی ہوگئی جس میں انہوں نے غیر مشروط طور پر معافی مانگی مگر اس کے باوجود کمیٹی نے ان پر دو کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کردیا۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو کروڑ روپے کا جرمانہ کس قانون کے تحت عائد کیا گیا ہے؟ کیا انہوں نے مریم نواز کی مہنگی گاڑی کا شیشہ توڑ دیا تھا یا اس کے پہیے کی ہوا نکال کر اس کا چکا جام کردیا تھا جس کی وجہ سے وہ رکشے پر بیٹھ کر گھر واپس گئی تھیں؟ یہ سارے سوالات پاکستان کے عوام اور خصوصی طور پر کرکٹ کے شائقین کے ذہن میں گونج رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک رکن نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ مریم نواز کے کتے کی قیمت دو کروڑ روپے ہے اور چند دن قبل وہ مبینہ طور پر گم ہوگیا تھا اس لئے اس کے مداوا کیلئے جرمانے کی رقم بھی دو کروڑ روپے ہی رکھی گئی ہے۔ لیکن یہ تو سراسر ناانصافی معلوم ہوتی ہے کہ سزا کسی اور کو دی جائے۔ ایسا تو صرف موجودہ سیاسی ماحول میں ہی ممکن نظر آتا ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کی رائے کے اظہار پر اتنی بڑی مالی سزا بھگتنی پڑے۔















