راقم لاہور کی مشہور جنرل سرجن ، کینسر ریسرچ فائونڈیشن لاہور کی چیئرمین ، سرجیکل یونٹ ون گنگا رام ہسپتال لاہور کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور اس وقت کے فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور کی پرنسپل پروفیسر خالدہ عثمانی کے ساتھ کچھ عرصہ کام کر چکا ہے، انہی کے کہنے پر پلاسٹک سرجری کی طرف رجوع کیا ان کے بقول میرے کام میں نفاست ہے ،ایک عرصہ تک اسی بھول بھلیوں میں گزرا لیکن آج کا موضوع یہ نہیں بلکہ جنید صفدر کی دوسری شادی میں مریم اورنگزیب کی حالیہ اپیئرنس ہے جس نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ سیاست میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں، مگر ہمارے ہاں اکثر بحث پالیسی سے نکل کر شخصیت، لباس اور حلیے تک جا پہنچتی ہے یہی کچھ اس موقع پر بھی دیکھنے میں آیا جہاں چہ مگوئیوں کا مرکز سیاست نہیں بلکہ ایک خاتون سیاست دان کی ظاہری تبدیلیاں بن گئیں کہا جا رہا ہے اور زور دیا جا رہا ہے بلکہ حقیت ہے کہ پلاسٹک سرجری کی بدولت چہرے میں ایسی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں جو کسی زمانے میں ناممکن سمجھی جاتی تھیں جیسے کہ مریم اورنگزیب کی صورت میں دیکھا گیا ہے کہ بڑے ناک کو چھوٹا اور ستواں بنانا، جسے میڈیکل زبان میں رائینوپلاسٹی کہا جاتا ہے، آج ایک عام سا عمل بن چکا ہے ترکی تو اس فیلڈ میں مکمل پیکج تفریح کے ساتھ دے رہا ہے اور امریکہ سے لوگ یہ پروسیجر ارزاں نرخوں پر کروانے جاتے ہیں اسی طرح جبڑے کی ساخت میں تبدیلی لا کر چہرے کو چوڑے پن سے نکال کر لمبوترا یا متوازن بنایا جا سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق مریم اورنگزیب کے چہرے میں نظر آنے والی تبدیلیاں بھی اسی جدید میڈیکل سائنس کے کارناموں میں سے ایک ہو سکتا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنے چہرے کی ساخت کے باعث ماضی میں خاصی تنقید کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ سیاست میں تنقید کا سامنا سب کو ہوتا ہے، مگر جب تنقید مسلسل ذاتی نوعیت اختیار کر لے تو اس کے اثرات رویے اور لب و لہجے پر بھی پڑتے ہیں۔ نفسیات کہتی ہے کہ جب انسان کسی کمپلیکس کا شکار ہو تو تلخی لاشعوری طور پر گفتار میں در آتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مریم اورنگزیب کی بول چال میں وہ سختی اکثر نوٹ کی جاتی رہی جسے ان کے ناقدین بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے انہیں کیا کیا نہیں کہا گیا اور یہ فہرست خاصی طویل ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ وہ ایک خاتون ہیں اور خواتین کے لیے بننا سنورنا محض شوق نہیں بلکہ ایک سماجی دبا بھی ہوتا ہے اگر کسی کے پاس وسائل ہوں بھلے ناقدین یہ سوال اٹھاتے رہیں کہ وہ وسائل کیسے آئے تو پھر خوبصورتی کے حصول کے مواقع سے فائدہ اٹھانا انسانی فطرت ہے۔ خاص طور پر جب کسی کے پاس ایسا کرنے کی قدرت اور رسائی دونوں موجود ہوں ممکن ہے کہ اب، ظاہری اعتماد کے ساتھ، وہ اپنی سیاسی ترجمانی کے فرائض پہلے سے بہتر انداز میں انجام دے سکیں گی ۔ اعتماد انسان کے لہجے کو نرم اور دلیل کو مضبوط بنا دیتا ہے۔ اور اگر کچھ نہیں تو لائٹر موڈ میں کم از کم پریس کانفرنسوں اور پبلک اپیئرنس کے لیے آج کی رات مزہ حسن کا آنکھوں سے لیجیے کے مصداق، صحافی و حضرات سننے کے ساتھ دیکھنے سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے اور شاید بوریت کچھ کم ہو نہ ہو ان کی کانفرنسوں میں دیئے گئے کھابے انہیں ان کی اس تبدیلی بارے سوالات پوچھنے سے گریز کرواتے رہیں گے آخر میں سوال یہ نہیں کہ کسی نے کیا کروایا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم سیاست کو کب پالیسی، کارکردگی اور عوامی مسائل تک محدود کریں گے۔ شخصیت پرستی چاہے مثبت ہو یا منفی بالآخر جمہوری مکالمے کو ہی کمزور کرتی ہے مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا، ایسی چہ مگوئیاں ہماری سیاست کا حصہ بنی رہیں گی۔
٭٭٭
















