فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! شعبان المعظم کا مہینہ اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے جو بہت سی خیرات وبرکات کا حامل ہے۔ اس مہینہ کی تیسری تاریخ کو حضرت امام حسین اور چوتھی تاریخ کو امام حسن رضی اللہ عنھما کا تولد ہوا اور سولہویں تاریخ کو کعبہ شریف قبلہ مقرر ہوا۔ رسول پاک ۖ کو یہ مہینہ بہت محبوب تھااور آپۖ اس میں بکثرت روزے رکھتے تھے اور اس مہینہ کی طرف نسبت یوں بیان فرماتے یعنی شعبان میرا مہینہ ہے لہٰذا اگر اللہ پاک توفیق دے تو اس مہینہ میں بکثرت روزے رکھنے کے علاوہ کثرت سے درود شریف بھی پڑھنا چاہیے کیونکہ اس ماہ مقدس میں روزے رکھنے کی بہت فضلیت وثواب ہے اور حضور علیہ الصّلواة والسّلام کی نسبت ومحبوبیت کے باعث اس مہینہ کو درود کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔ شعبان کے حروف پانچ ہیں جن میں سے ”ش”، شرف کا ”عین؟ علو(بلندی کا ”ب” ہر(نیکی) کا ”الف الفت کا اور ”نون” نور کا ہے جو بندہ ایمان دار، نیکورکار اور عبادت گزار ہو اللہ تعالیٰ اس مہینے میں اسے ہر حرف کے بدلے یہ پانچ عطیات مرحمت فرماتا ہے۔ لہذا ہردانا وسمجھ دار مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس مہینہ میں غافل نہ ہوا اور اس مہینہ میں بالخصوص نیک اعمال میں کوشش کرے اور جن کا یہ مہینہ ہے اس آقا ومولیٰ ۖ کے وسیلہ جلیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑاے اور گناہوں سے توبہ کر کے پاک وصاف ہو کر رمضان المبارک کے استقبال کی تیاری کرے تاکہ مولیٰ تعالیٰ اس کے دل کے فساد اور باطنی امراض کو دور فرما دے۔ یاد رہے کہ دن تین ہی ہیں کل، آج اور کل آئندہ کل گزر گیا ہے اور ہاتھ نہیں آسکتا آج عمل کرنے کا دن ہے اور کل آئندہ کا پتا نہیں کہ ہم اسے پاسکیں گے یا نہیں، گزرے ہوئے کل سے عبرت حاصل کرنی چاہئے اور اس میں جو کوتاہی سرزد ہوئی اس سے توبہ کرنی چاہئے۔ آج کے دن کو غنیمت سمجھ کر زیادہ سے زیادہ عمل ونیکی میں کوشش کرنی چاہئے۔ کیونکہ معلم نہیں کہ کل آئندہ نصیب ہوگا یا نہیں اور عمل وتوبہ کا موقع ملے گا یا نہیں جس طرح تین دن ہیں اسی طرح تین مہینے رجب شعبان اور رمضان بھی ہیں۔ رجب گزر گیا ہے جو اب واپس نہیں آئے گا رمضان کا انتظار ہے اور معلوم نہیں رمضان آنے تک ہم زندہ ہوں گے یا نہیں لہذا شعبان جو حاضر وموجود ہے اسے غنیمت جاننا چاہئے اور اطاعت وعبادت میں پوری کوشش کرنی چاہئے۔ یوں تو سارا شعبان ہی برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے لیکن اس کی پندرہویں رات بالخصوص بڑی عظمت واہمیت والی ہے۔ اس رات کو برآت یعنی چھٹکارے کی رات کہا جاتا ہے برکت کی رات، رحمت کی رات اور حساب وکتاب کی رات کہا جاتا ہے اور اس میں بڑے بڑے اہم معاملات طے ہوتے ہیں۔ اہل دنیا اپنی موت وانجام سے بے خبر اپنے مخلف مشاغل، کام کاج اور کھیل تماشوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ لیکن اس رات ان میں سے کچھ لوگوں کی زندگی کے خاتمہ کا فیصلہ ہو جاتا ہے اور موت کا پروانہ ان کے نام جاری کردیا جاتا ہے۔ کئی لوگ بازاروں کی خرید وفروخت اور رونق میں محو ہوتے ہیں اور ادھر ان میں سے کچھ کا کفن تیار ہوتا ہے کئی لوگ عیش وعشرت میں مشغول ومخمور ہوتے ہیں اور ادھر ان کی قبر تیار ہوتی ہے کئی لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں اور ان کی موت کا وقت قریب پہنچ گیا ہوتا ہے کئی مکانات کی تیاری مکمل ہوتی ہے اور ان کے مالک فنا کے قریب ہوتے ہیں۔ کئی لوگ باغبانی وکھیتی باڑی میں مصروف ہوتے ہیں اور ان کا نام موت کے رجسٹر میں درج ہو جاتا ہے۔ کئی لوگ شادی بیاہ میں مشغول ہوتے ہیں اور ان کا نام زندگی سے دفتر سے محو ہو جاتا ہے۔ کئی لوگ سفر میں سرگرداں ہوتے ہیں اور مرنے والوں میں ان کا نام شامل ہو جاتا ہے کاش! جو لوگ اپنے کاموں میں اس طرح مصروف اور کھیل تماشے، گانے بجانے و حرام کاموں میں مشغول ہیں وہ اس حقیقت کو سمجھیں، موت کو یاد رکھیں اور اپنی آخرت کی تیاری کا بھی کوئی سامان کریں۔ ٹھکانہ گور ہے تیرا عبادت کچھ تو کر راقب کہاوت ہے کہ خالی ہاتھ گھر جانا نہیں اچھا رسول اللہۖ نے امّ المئومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھما سے فرمایا: جانتی ہو کہ نصب شعبان کی شب میں کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! اس میں کیا ہوتا ہے؟ آپ ۖ نے ارشاد فرمایا: اس رات میں اس سال پیدا ہونے والابنی آدم کا ہر بچہ لکھا جاتا ہے۔ اور اس رات میں اس سال بنی آدم کے ہر مرنے والے فرد کانام لکھا جاتا ہے۔ اس رات میں بندوق کے اعمال پیش ہوتے ہیں۔ اور ان کا رزق نازل ہوتا ہے بہرحال اس رات میں بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں بس اللہ پاک میں اس رات کی اہمیت کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مرحومین صاحبان ایمان کی بخشش ومغفرت عطا فرمائے(آمین ثمہ آمین)۔
٭٭٭٭٭٭












