شارٹ سرکٹ !!!

0
3
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے گل پلازہ کراچی میں رونما ہونے والا حادثہ جو اب ایک قومی سانحہ و المیہ بن چکا ہے بیرون ملک پاکستانی ہوں یا اندورون ملک رہنے والے سب اس واقعہ سے مغموم ہیں فی الحال کوء حتمی رپورٹ نہیں ملی لیکن عموما ایسے حادثات میں مورد الزام ہمیشہ الیکٹرک شارٹ سرکٹ کو ہی بتایا جاتا ہے جبکہ حقیقت بھی یہی ہے دنیا میں آگ کے بڑے حادثات جہاں انسانی غلطی سے رونما ہوتے ہیں وہیں اس میں ناقص انجیئنرنگ کے آلات کا استعمال بھی ہوتا ہے اسمارٹ فون کی بیٹری ہو یا گھریلو سولر نظام یا جدید سگریٹ کا متبادل ویپنگ سب میں موجود برقی طاقت اسٹور کرنے والی بیٹریز ایک چلتا پھرتا آگ لگانے کا سامان ہوتا ہے !!اب زیر نظر آپ بیتی پڑھیں جو روزینہ کرامت صاحبہ کے گھر ہوء اللہ پاک نے اس فیملی کر بڑے حادثے سے محفوظ رکھا لیکن یہ دیگر لوگوں کیلئے ایک نصیحت ضرور ہے اس وجہ سے مفاد عامہ کی خاطر بیان کردیا اب آپ واقعہ پڑھیں کس طرح ایک خاتون خانہ نے الیٹرک سے لگنے والی آگ کو قابو کیا اوسان خطا نہ کیے ، گل پلازہ کے حالیہ سانحے نے مجھے ایک ایسا واقعہ یاد دلا دیا جو میں مصروفیت کی وجہ سے بروقت شیئر نہیں کر سکی۔تقریبا ڈیڑھ دو ماہ پہلے ہمارے گھر کی بالکنی میں لگے ہوئے سولر سسٹم کے پینل میں اچانک آگ لگ گئی، وجہ ناقص کوالٹی کے بریکرز تھے۔ دن کا وقت تھا بچوں کی اسکول سے چھٹیاں تھیں، میں اور بیٹی کمرے میں سو رہے تھے اور بیٹا لانج میں ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اچانک لائٹ گئی تو بیٹے نے آ کر بتایا کہ ماما کوئی دھماکہ ہوا ہے۔ پہلے یہی سمجھا کہ شاید عام ٹرپ ہوگا اور حارث سے کہا ایک دو گھروں میں چیک کرے ان کی لائٹ ہے۔آس پاس گھروں سے معلوم کیا تو لائٹ تھی۔ حارث نے بابا کو فون کیا، وہ آفس میں تھے۔ ان سے ویڈیو کال پر بات ہوئی انہوں نے حارث سے بریکرز چیک کروائے، جیسے ہی بریکر آن کیے گئے، لائٹ آئی اور فورا دوبارہ چلی گئی۔ اسی دوران بیٹا اوپر بالکنی میں سولر سسٹم دیکھنے گیا اور واپس آ کر گھبراہٹ میں بولا کہ اوپر دھماکے ہو رہے ہیں، کوئی اوپر نہ جائے۔ پہلے لمحے میں مجھے لگا شاید مذاق کر رہا ہو، مگر چند سیکنڈ بعد میں نے پوچھا ٹھیک بتا کیا دھماکے ہو رہے تو کہنے لگا اوپر سارا دھواں دھواں ہو رہا ہے۔بیٹے کو سخت سناتے کہ اتنے سکون سے بتا رہے ہو کہ دھماکے ہو رہے اوپر سولر سسٹم کی طرف بھاگی۔ جب خود اوپر بالکنی میں گئی تو دیکھا کہ سولر پینل کے اندر شدید اسپارکنگ ہو رہی ہے۔ ہسبینڈ کو فورا کال ملائی، بتایا تو اسپارکنگ کا سن کر وہ بھی بدحواس ہو گئے، لائن کٹ کی اور گھر کے لیے نکل پڑے جو کہ گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کا سفر کر کے ہی پہنچتے اور اسی دوران الیکٹریشن کو انہوں نے کال کر کے جلدی گھر پہنچنے کا کہا۔
سسٹم ہم نے آف تو کر دیا تھا مگر چونکہ دھوپ تھی اس لیے بیٹری کے ذریعے بجلی کی سپلائی جاری رہی اور اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ شعلے اتنی تیزی سے پھیل رہے تھے کہ پوری بالکنی آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ اس گھبراہٹ میں کچھ سمجھ نہ آیا۔ حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ الیکٹرک فائر پر پانی نہیں ڈالنا چاہیے، مگر گھر میں نہ کوئی BCF فائر ایکسٹنگوئشر تھا نہ DCP۔ سولر انسٹالیشن کے وقت نہ کوئی حفاظتی انتظام لگایا گیا تھا اور نہ ہی ہمیں بتایا گیا تھا کہ ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہیے۔
شعلے بھڑکتے دیکھ کے ہڑبڑاہٹ میں جب کچھ اور حل نہ سوجھا تو میں نے بالکنی سے متصل روم کے اٹیچڈ باتھ روم سے مگ بھر بھر کر پانی ڈالنا شروع کیا، جبکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کرنٹ نہیں لگا۔ بیٹے سے کہا جا آس پاس کے گھروں میں بتا سولر میں آگ لگ گئی ہے۔ اس نے محلے کے گھروں میں جا کر اطلاع دی، مگر دن کا وقت تھا، زیادہ تر مرد حضرات آفس میں تھے۔
سامنے اور ساتھ والے گھر سے انکل نکلے لیکن بیٹری پھٹنے کے خدشے کے باعث کوئی اوپر آنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ انہوں نے نیچے سے مٹی شاپر میں بھر کر بیٹے کو دی اور مجھے نیچے سے ہی آواز دے کر کہا مٹی کو پینل میں ڈالیں۔ بیٹا مٹی اوپر لے کر آیا، میں نے مٹی پینل میں ڈالی۔ شعلے تو پانی سے ہی ختم ہو گئے مگر پینل کے اندر سے وقفے وقفے سے اسپارک نکلتے رہے جو مٹی ڈالنے سے کچھ حد تک کم ہوئے۔
میں وہیں کھڑے مانیٹرنگ میں پینل دیکھ رہی تھی کہ ہلکی ہلکی اسپارکنگ ہو رہی تھی۔ اسی دوران الیکٹریشن آ گیا جو کہ ساتھ والی سوسائٹی میں ہی بجلی کا کام کر رہا تھا لیکن تقریبا آدھے گھنٹے بعد پہنچا۔ اس نے دور سے ہی پلاس کے ذریعے بیٹری سے پینل کو جانے والی تار اور پائپ کاٹا تاکہ بجلی کی سپلائی مکمل طور پر بند ہو سکے۔ الیکٹریشن نے بتایا کہ اس کنڈیشن میں بیٹری پھٹنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور حال ہی میں قریبی سوسائٹی میں ایسا حادثہ ہو چکا تھا اس لئے ایسی صورتحال میں ہم بھی ہاتھ ڈالتے ہوئے گھبرا رہے ہوتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا کہ ابھی لائن میں کرنٹ ہے، میں آدھے گھنٹے بعد آ کر سارا سولر سسٹم ڈس ایبل کرتا ہوں۔ایک گھنٹے کے اندر ہسبینڈ بھی گھر پہنچ گئے اور پھر مکمل طور پر سولر سسٹم ڈس ایبل کر دیا گیا۔ یہ سب لکھنے کا مقصد صرف ایک ذاتی تجربہ شیئر کرنا نہیں بلکہ انتباہ اور آگاہی دینا ہے۔ یقین مانیں یہ کسی نیکی، دعا اور اللہ کی خاص حفاظت کا نتیجہ تھا کہ ہم بروقت متوجہ ہو گئے، ورنہ سولر سسٹم اوپر بالکنی میں تھا اور ہم نیچے کمروں میں آرام کر رہے تھے۔ اگر چند منٹ اور دیر ہو جاتی تو شاید پورا گھر آگ کی لپیٹ میں آ جاتا اور نقصان ناقابلِ تلافی ہوتاجن گھروں میں سولر پینل، بجلی کے بڑے میٹر یا ہیوی الیکٹرک بورڈ لگے ہوئے ہیں، وہ براہِ کرم یہ احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں۔سب سے پہلے، سولر سسٹم کے قریب BCF فائر ایکسٹنگوئشر یا ڈرائی کیمیکل پاڈر یعنی DCP لازمی رکھیں۔ کبھی بھی الیکٹرک فائر پر پانی استعمال نہ کریں، یہ آگ کو بڑھا بھی سکتا ہے۔ واٹر فائر ایکسٹنگوئشر HO یعنی پانی صرف کلاس A فائر میں استعمال ہوتا ہے، جیسے کاغذ، کپڑا اور لکڑی کی آگ۔ الیکٹرک فائر یا سولر سسٹم میں آگ لگنے کی صورت میں پانی ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے کرنٹ لگنے اور آگ پھیلنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ ایسی آگ کے لیے BCF یعنی برومو کلورو یعنی میتھین یا DCP ڈرائی کیمیکل پاڈر استعمال ہوتا ہے جو الیکٹرک فائر اور برقی آلات میں لگنے والی آگ بجھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
آگ لگنے کی صورت میں سب سے پہلے مین سوئچ بند کریں اور بجلی کی سپلائی مکمل ختم کریں۔ آس پاس موجود آتش گیر اشیا، کیمیکلز اور برقی آلات فورا ہٹا دیں۔ ننگے پاں ہرگز آگ کے قریب نہ جائیں، مناسب چپل یا جوتے پہنیں۔ اور سب سے بڑھ کر، سولر انسٹالیشن کے وقت سیفٹی گائیڈ لائنز، بریکرز، ارتھنگ اور حفاظتی آلات کو نظرانداز نہ کریں۔یہ ویڈیو آگ بجھنے کے بعد بنائی گئی ہے۔ اللہ کا شکر ہے اس نے کرم کیا جو لفظوں میں پوری طرح بیان نہیں ہو سکتا۔ اللہ ہم سب کو ایسے حادثات سے محفوظ رکھے اور ہمیں ایسی کسی بھی ناگہانی صورتحال میں بروقت اور عقلمندانہ فیصلہ کرنے کی توفیق دے۔ آمین
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here