پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل سے توقع!!!

0
25

پاکستان کی معاشی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں ہر بحران کے جواب میں ایک نیا ماڈل پیش کر دیا جاتا ہے، مگر اس ماڈل کو نافذ کرنے کے لئے جس سیاسی عزم، ادارہ جاتی اصلاح اور سماجی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہمیشہ ناپید رہتی ہے۔ حالیہ دنوں حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے معاشی بحران سے نکلنے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اختیار کرنے کا مشورہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ یہ مشورہ بظاہر جدید، حقیقت پسندانہ اور عالمی رجحانات سے ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا موجودہ سیاسی، انتظامی اور معاشی ڈھانچہ اس ماڈل کو حقیقی نتائج میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بنیادی طور پر ریاستی سرمایہ کاری میں نجی شعبے کی شراکت کو بڑھانے کا تصور ہے، جس کا مقصد سرکاری وسائل پر بوجھ کم کرنا، کارکردگی بہتر بنانا اور جدید انتظامی مہارت سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہ ماڈل انفراسٹرکچر، توانائی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے تاہم ان ممالک میں ریاستی ادارے مضبوط، قوانین واضح اور سیاسی تسلسل نسبتا مستحکم رہا ہے۔ پاکستان میں مسئلہ صرف سرمایہ کاری کے ماڈل کا نہیں، بلکہ اس ماحول کا ہے جس میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ نگران حکومت کے دور سے لے کر موجودہ حکومت تک نجی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے۔ شرح سود میں رد و بدل، درآمدات پر پابندیوں میں نرمی، کرنسی مارکیٹ میں مداخلت، آئی ایم ایف سے معاہدے اور دوست ممالک سے مالی امداد جیسے اقدامات نے وقتی استحکام تو پیدا کیا، مگر معاشی بحران کی جڑیں بدستور اپنی جگہ موجود ہیں۔ بیرونی قرضوں کے سہارے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری کو اگر استحکام کہا جائے تو یہ ایک سطحی اور عارضی تعریف ہوگی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پیداواری عمل شروع نہیں ہو سکا، صنعت کا پہیہ پوری رفتار سے نہیں گھوم رہا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔نجی سرمایہ کار ہر اجلاس، ہر فورم اور ہر ملاقات میں حکومت کو ایک ہی مشورہ دیتے دکھائی دیتے ہیںکہ سیاسی مفاہمت کی طرف آئیں۔ سرمایہ کار بخوبی جانتے ہیں کہ سیاسی عدم استحکام، پالیسیوں کا بار بار بدلنا اور ادارہ جاتی تصادم کسی بھی معاشی منصوبے کو ناکام بنا سکتا ہے۔ پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ سرمایہ موجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سرمایہ خوفزدہ ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ آج جس پالیسی پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، کل کسی سیاسی تبدیلی یا انتظامی فیصلے کے نتیجے میں وہی پالیسی اس کے لئے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اب ایک عالمی ایجنڈا بن چکا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے دباو اور قرضوں کی شرائط کے تحت پاکستان اس راستے پر چلنے کا پابند دکھائی دیتا ہے۔ مگر یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ کیا نجی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو محض سرمایہ فراہم کرنے والا شراکت دار سمجھا جا رہا ہے، یا انہیں اداروں میں اصلاحات، نظم و نسق کی بہتری اور فیصلہ سازی میں حقیقی اختیار بھی دیا جائے گا؟ اگر نجی شعبے کو صرف مالی ذمہ داری اٹھانے دی جائے اور بیوروکریسی، سیاسی مداخلت اور غیر شفافیت بدستور قائم رہے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بھی سرکاری منصوبوں کی طرح خسارے کا شکار ہو جائے گی۔پاکستان کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں نجکاری اور شراکت داری کو اکثر ایک منفی بیانیے میں پیش کیا جاتا ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات، اداروں کی کم قیمت پر فروخت، ملازمین کی بے روزگاری اور کرپشن کے الزامات نے عوام کے ذہن میں شکوک پیدا کئے ہیں۔لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ وسائل پر قابض ایلیٹ اب سرکاری اداروں کو بھی ہڑپنا چاہتی ہے۔ جب تک حکومت اس عمل کو شفاف، منصفانہ اور قومی مفاد سے ہم آہنگ بنا کر پیش نہیں کرتی، عوامی اعتماد بحال ہونا مشکل ہے۔ کسی بھی معاشی ماڈل کی کامیابی کے لئے عوامی تائید بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی سرمایہ کاری۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو صرف بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں تک محدود رکھنا بھی ایک محدود سوچ ہوگی۔ زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، برآمدات، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے شعبے وہ میدان ہیں جہاں نجی شعبے کی شراکت حقیقی معاشی تبدیلی لا سکتی ہے۔ مگر اس کے لئے حکومت کو محض سہولت کار نہیں بلکہ ضامن کا کردار ادا کرنا ہوگا، جو معاہدوں کی پاسداری، تنازعات کے فوری حل اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنائے۔ اگر واقعی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو معاشی بحران سے نکلنے کا ذریعہ بنانا ہے تو حکومت کو چند بنیادی سمتوں میں سنجیدہ پیش رفت کرنا ہوگی۔ سب سے پہلے سیاسی سطح پر کم از کم معاشی ایجنڈے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ حکومتیں بدلنے سے بنیادی پالیسیاں نہیں بدلیں گی۔ دوسرے، ادارہ جاتی اصلاحات کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی شکل دینا ہوگی تاکہ نجی شعبے کو فیصلہ سازی اور نظم و نسق میں موثر کردار مل سکے۔ تیسرے، شفافیت اور احتساب کے ایسے نظام وضع کرنا ہوں گے جو ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے روک سکیں اور عوامی اعتماد بحال کریں۔ آخر میں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو ایک جامع ترقیاتی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہوگا، نہ کہ اسے ایک فوری مالی سہارا سمجھ کر آزمایا جائے۔ اگر یہ اقدامات خلوصِ نیت سے کئے گئے تو شاید یہ ماڈل محض ایک اور ادھورا خواب نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی بحالی کی سمت ایک حقیقی قدم ثابت ہو سکے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here