ویانا کے بعد دنیا کے قدیم مقام روم پہنچے جو میزروں، محلوں اور چرچوں کا جائے مقام کہلاتا ہے جس کے اندر ایک آزاد اور خودمختار ملک وٹیکن بھی بنا ہوا جس کے چاروں اطراف روم پھیلا ہوا جس کی آبادی چار ملین ہے یہاں ہر سال تقریباً چودہ ملین سیاح قدیم روم کے محلوں، یادگاروں، بادشاہوں کے مزاروں کیتھولک فرقے کے ممبران وٹیکن دیکھنے کے لئے آئے ہیں ہمارا قیام روم کے ڈائون ٹائون میں تھا یہاں پر ایک قدیم چرچ کو دیکھنے کو ملا جو تقریباً آٹھ سو سال پرانا تھا۔ جس کی توسیع میں کسی امیر شخص کا بھی نام تھا جنہوں نے اس جھوٹے سے چرچ کو ایک وسیع پیمانے پر چرچ بنانے میں اپنی قیمتی زمین بطور تحفہ دے دی تھی۔ اس چرچ میں حضرت مریم علیہ السلام اور حضرت عیٰسی علیہ السلام کے مجسمے بھی جگہ جگہ نظر آرہے تھے جن کو سیاحوں کے علاوہ عقیدت مند بھی ہزاروں کی شکل میں نظر آرہے تھے جو اوپر سے تہہ خان تک آجارہے تھے۔ روم میں بعض مقامات وہ بھی دیکھنے کو ملے ہیں جو گزشتہ تین ہزار سالوں سے موجود ہیں جن کی دیکھ بھال اب تک جاری ہے روم میں چرچوں کی تعداد 1500 کے قریب ہے جبکہ محلوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس میں بڑے بڑے سیزریوں کے نام درج ہیں جنہوں نے مختلف وقتوں میں روم کے لئے فتوحات حاصل کی تھیں۔ روم میں مصری آثار قدیم پلرز دیکھنے کو ملے جو رومیوں کے ہاتھوں فرعونوں پر فتح کیا بعد میں وہ مصری تعمیراتی پیلرز روم لائے گئے تھے جو آج بھی روم کی خوبصورتی کی زینت بنے ہوئے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ مصری فرعون رومنوں سے پہلے حکمران گزرے ہیں۔ جن کا دور فرعونیت کے ثبوت حضرت موسےٰ کے وقتوں میں ملتا ہے کہ جب اللہ پاک کے حکم پر حضرت موسٰے کو بطور چائلڈ دریائے نیل میں بہا دیا گیا جو فرعون کے ہجری آسیہ کے ہاتھوں پل کر جوان ہوئے جنہوں نے بعدازاں قرعونیت کے خلاف انقلاب برپا کردیا تھا تاہم روم کے سیزروں میں ہم جنسی پرستی کا پتہ چلتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رومن سلطنت بھی قوم لوط کی طرح تباہ وبرباد ہوئی جس پرآخر کار رومنوں کی دوسری نسل مشرفی رومن کے باز فلسطینیوں نے بغاوت کرتے ہوئے سلطنت فلسطینی بنیاد رکھی تھی جو بعد میں مسلمان ہوگئے جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کے نام پر1914تک پوری دنیا پر حکمرانی کی تھی۔ رومنوں کے بارے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ رومن سلطنت سے پہلے یونانی سلطنت بھی قائم رہی ہے جس کے حکمران سکندراعظم نے اپنے زمانے میں مصر، ایران ختم کرتے ہوئے ہندوستان کو بھی فتح کرنے کی کوشش کی تھی جن کا مقابلہ دریائے اٹک کے مقام پر پنجاب کے درجہ پور میں راجپوت سے ہوا جس میں راجہ پورس کو اگرچہ شکست کا سامنا کرنا پڑا جو جدید یونانی رتھوں کے مقابلے میں ہاتھیوں کی فوج پر انحصار کر رہا تھا جس میں سکندر کے فوجیوں نے ہاتھیوں کے سونڈوں کو کاٹ دیا تھا جس سے ہاتھیوں نے اپنی ہی فوج کو روند دیا تھا جس کو عام زبان میں راجہ پورس کے ہاتھی کہا جاتا ہے۔ بہرحال ویانا اور روم کے تعمیراتی محل چرچ اور آثار قدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ مجوزہ ملکوں میں فن تعمیری آج سے دو ہزار سال پہلے وجود میں آچکی تھی جس کے ماضی کے ہزاروں مناظر آج دیکھنے کو ملتے ہیں جس کے علاوہ رومیوں کے بادشاہوں کے دور میں پارلیمنٹ اور عدلیہ کا بھی وجود آچکا تھا کہ جس میں پارلیمنٹ اور عدلیہ بڑے بڑے فیصلے کرتے تھے جس سے باقی شدہ یورپ آج مستفید ہو رہا ہے۔ جو تیسری دنیا سے دو سال آگے ہے جس کے مقابلے میں ہم نے آثار قدیمہ ملیامیٹ کردیئے ہیں جس کی وجہ سے ہم لوگ آثار انسان نظر آتے ہیں۔
٭٭٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)














