جوش ملیح آبادی کے جنازے کو ان کی رہائش گاہ سے کندھا دینے والے احمد فراز ، غضنفر مہدی اور میں ( مقصود جعفری) تھے۔ ان کے بیٹے سجاد خروش نے مجھے فون کر کے یہاں تک کہا کہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے ہم نے ایک مولوی سے رابطہ کیا تو اس نے جوش صاحب کا جنازہ پڑھانے سے ہی انکار کر دیا۔ آپ نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے کوئی انتظام کریں۔ یہ سنتے ہی میں نے پیر آف دیول شریف کے بیٹے روح الحسنین کو فون کر کے استدعا کی کہ وہ نمازِ جنازہ پڑھائیں ۔ وہ چونکہ خود شاعر تھے اور میری نہایت قریبی دوست تھے تو وہ آمادہ ہوئے اور اسلام آباد کے قبرستان میں نمازِ جنازہ پڑھائی۔ اللہ ان کی مغفرت کرے وہ وفات پا چکے ہیں۔ جوش صاحب کے جنازے میں مارشل لا حکومت کے خوف سے بہت ہی کم لوگ شریک ہوئے۔ پہلی نمازِ جنازہ کے تھوڑی دیر بعد فیض احمد فیض لاہور سے تشریف لائے۔ دوسری جماعتِ جنازہ مولانا ذوالفقار جعفری نے شیعہ فقہ کے مطابق پڑھی جس میں چند دیگر افراد کے ساتھ فیض صاحب اور میں نے پڑھی۔ انہوں نے نمازِ جنازہ پڑھانے سے قبل با آوازِ بلند جوش کا یہ شعر پڑھا!
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
اس طرح جوش مرحوم کی نمازِ جنازہ فق جعفریہ اور فق حنفیہ کے مطابق پڑھی گئی اور میں نے دونوں میں شرکت کی۔
مندرجہ بلا پوسٹ میں جن شاعروں کی تصویریں لگائی گئی ہیں ان میں سے کون نمازِ جنازہ میں شریک تھا اور کون جنرل ضیا الحق کی چھتری کی نیچے تھا اِس بحث سے قطعِ نظر احمد فراز ، غضنفر مہدی اور مقصود جعفری کو نظر انداز کرنا پرلے درجہ کی ادبی، اخلاقی اور تاریخی بددیانتی ہے۔ جوش صاحب نے میں میرے شعری مجموعہ گوش قفس کا دیباچہ لکھا تھا۔ جوش ملیح آبادی کی پوتی تبسم ملیح آبادی شاعرہ ہیں۔ انہوں نے چند روز قبل مجھے اپنا شعری مجموعہ دیپ جلائے رکھنا دیا۔ وہ اِس تلخ حقیقت کی گواہ ہیں کہ جنرل ضیا الحق کے استبدادی دورِ حکومت میں بہت کم لوگ جوش صاحب سے ملنے آتے تھے۔ جن لوگوں نے فیس بک اور واٹس ایپ پر چند تصاویر لگا کر یہ تاثر دینے کی کوششش کی ہے ان میں صرف ایک دو ہی کبھی کبھار جوش صاحب سے ملتے تھے جن کو میں نے وہاں دیکھا۔ جنازے میں شرکت تو بہت دور کی بات ہے۔ ان کے نواسے جناب فرخ جمال نے اپنے نانا جوش مرحوم پر جو کتاب جوش: ملیح آباد سے اسلام آباد تک لکھی ہے اس میں میرے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے کہ حضرتِ جوش اس بند حقیر سے کتنی شفقت سے پیش آتے تھے۔ یہ تحریر خود ستائی کی لیے نہیں لکھی گئی بلکہ تاریخی ریکارڈ درست کرنے کے لیے لکھی ہے۔
٭٭٭












