ارادہ تو تھا کہ گزشتہ کالموں کے تسلسل میں عالمی و پاکستان کے حوالوں سے سیاسی و اضطرابی حالات و مائٹ از رائٹ کی چمتکاریوں پر اظہار کریںلیکن متعدد قریبی احباب و قارئین کا تقاضہ رہاکہ اپنے حالیہ پاکستان کے دورے کے ناطے پہلے کی طرح سفر نامہ تحریر کیا جائے، کرمفرمائوں کی خواہش پر عمل پیرا ہونے کے سواء کوئی چارہ بھی تو نہیں سو اس خاکسار کی حالیہ تحریر سفر پاکستان پر ہی مبنی ہے۔ کوشش ہوگی کہ قارئین و احباب کی دلچسپی اور معیار کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ تقریباً دو ڈھائی سال بعد راقم کو پاکستان جانے کا موقع ملا کہ صحافتی و دیگر ذمہ داریوں و مصروفیات کے سبب وطن عزیز جانے کے اسباب مشکل ہی لگتے تھے تاہم احباب و رفقاء رانا زاہد حمید، چوہدری منیر اختر (جنہیں عمرہ ادائیگی کے بعد پاکستان پہنچنا تھا) کے بے حد اسرار پر خصوصاً رانا زاہد اور اپنے مشترکہ دوست نوابزادہ واجد علی خان کے صاحبزادے فصاحت علی خان کی تقریب شادی کی غرض و دیگر مصروفیات و تقاریب میں شرکت کیلئے عازم سفر ہونا پڑا۔ واضح ہو کہ رانا زاہد حمید پہلے ہی لاہور پہنچ چکے تھے، میں اور ٹرسٹی آصف ملک 13 دسمبر کو لاہور پہنچے۔ لاہور میں ہماری رہائش کا انتظام چوہدری منیر اختر کی عالیشان رہائشگاہ پر تھا۔ ہر طرح کی سہولیات موجود تھیں نیز رانا زاہد حمید نے خاطر خواہ مدارات کا بہترین و پُرخلوص اقدام کیا اور قیام و طعام میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ دریں اثناء میں اپنے افراد خاندان، عزیز و اقارب اور ساتھیوں دوستوں سے ملنے چند روز کیلئے اپنے آبائی شہر فیصل آباد پہنچا اور محبتوں، یادوں اور چاہتوں کا اعادہ کیا۔ فیصل آباد میں میڈیا اور سیاسی نمائندگان سے ملاقاتیں رہیں اور شہر و ملک کے معروضی حالات پر تبادلۂ خیالات رہا۔ فیصل آباد پریس کلب اور آل پاکستان پریس ورکرز ایسوسی ایشن کے صدر شاہد علی اور جنگ نیوز کے نمائندہ ادریس چغتائی نے پریس کلب کے وزٹ اور ٹی وی انٹرویو کی خواہش ظاہر کی تاہم ہم نے فیصل آباد میں مختصر قیام کے سبب جلد دوبارہ آمد پر ان کی خواہش کی تکمیل کا وعدہ کیا۔
16 دسمبر کو لاہور واپسی پر ہماری پہلی شرکت نوابزادہ وجاہت علی خان کے صاحبزادے فصاحت علی خان کی شیخ عثمان کی نور چشمی انزش عثمان کے ہمراہ شادی کی چار روزہ تقاریب میں ہوئی۔ شاہی قلعہ میں رانا زاہد حمید نے اپنے دوست کے بیٹے کی شادی کی خوشی میں زبردست قوالی و عشائیہ کا اہتمام کیا۔ مہندی، نکاح اور عروسی تقریب کے پروگرام لیک ٹائون رائے ونڈ عائشہ محبوب فارم ہائوس میں ہوئیں۔ بارات نوابزادہ کی رہائشگاہ ماڈل ٹائون سے لیک ٹائون پہنچی۔ شادی کے اگلے روز ماڈل ٹائون میں ولیمے کی تقریب ہوئی، تقاریب میں معروف و ممتاز سماجی، سرکاری، سیاسی، منتخب و کاروباری نیز دیگر شعبۂ حیات کی شخصیات اور فیملیز کیساتھ بیرون ملک سے احباب و افراد خاندان شریک تھے۔ حلال مصنوعات و نیوٹریشن کی تصدیق کے ادارے IFANCA کے پاکستان چیپٹر اور پی سی ایس آئی آر لاہور کے اشتراک سے منعقدہ آگاہی ایونٹ میں افانکا نارتھ امریکہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد منیر چوہدری کی نمائندگی راقم الحروف نے آصف ملک کے ہمراہ کی۔ تقریب میں شرکت اور اظہار خیال کے اعتراف میں منتظمین نے مجھے اظہار تہنیت اور اعترافی ایوارڈ سے نوازا اور میری صحافتی و کمیونٹی خدمات کو سراہا۔ میری پاکستان میں مصروفیات میں اہم ترین ایونٹ پاکستان میں متعدی امراض کی روک تھام اور عدم تحفظ، انفیکشن پریوینشن کے امریکی ادارے IPAC کے گورنر ہائوس لاہور میں فرینڈز گالا 2025ء کا انعقاد تھا۔ ایونٹ کا اہم ترین موضوع آئی پیک کے بورڈ عہدیدار رانا زاہد حمید کے جھنگ میں رانا زید کمیونٹی ہیلتھ کیئر سینٹر کا قیام اور قطعہ زمین کی فراہمی پر اظہار تحسین تھا۔ ایونٹ کے مہمانان خاص اسپیکر پنجاب اسمبلی و قائم مقام گورنرملک محمد احمد خان و چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود خان تھے۔ وفاقی و صوبائی منتخب و سرکاری عہدیداران، مقتدر و اہم شخصیات کے علاوہ آئی پیک کے سربراہ ڈاکٹر سمیر شفیع، عہدیداران نے آئی پیک کے اغراض و مقاصد، کارکردگی و کامیابی سے متعلق آگاہی دی۔ قائم مقام گورنر اور چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے آئی پیک کے صحت و بنیادی صحت کے مشن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رانا زاہد حمید کے جذبے کی تعریف کی اور انسانی و عوامی خدمت میں اپنی ہر ممکن سپورٹ و کاوش کا اعادہ کیا۔ پاکستانی امریکنز شکاگو چیمبر آف کامرس کے صدر نوید انور چوہدری نے اس موقع پر اپنے خطاب میں پاک امریکی معاشی وخیرسگالی تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے راقم کی خدمات اور چیمبر کے قیام میں کردار کو سراہا۔میرے دیرینہ ساتھی رانا مشہود خاں نے بھی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ خصوصاً ریاست الی نائے میں ان(رانا مشہود خاں) کی میزبانی اور محبتیں رانا جاوید کے خلوص کی مرہون منت ہیں۔ دریں اثناء ہمارے پرانے دوست اور محبت کرنے والے رانا زاہد توصیف نے اپنے فارم ہائوس پر زبردست لنچ کر اہتمام کیا جس میں سارے مقبول اور اہم دوست اور شخصیات نے شرکت کی۔
فیصل آباد واپسی پر فیصل آباد پریس کلب و آل پاکستان پریس ورکرز ایسوسی ایشن صدر شاہد علی سے وعدے کے بموجب راقم نے پریس کلب کا وزٹ کیا، عہدیداران نے پُرخلوص استقبال کیا اور پھول پیش کئے۔ لنچ کے بعد کلب کا وزٹ کرانے اور مختلف شعبوں کی تفصیل سے آگاہی کا مرحلہ بھی انجام پایا۔ دوسرے روز شاہد علی کے 45 منٹ محیط انٹرویو میںراقم نے امریکہ میں اردو صحافت کے کردار و ابلاغ پر اظہار کیساتھ پاکستان نیوز کے تسلسل اور کامیاب سفر پر روشنی ڈالی۔ پروگرام میں پرنٹ میڈیا کی موجودہ مختلف ویژول، سوشل و ڈیجیٹل میڈیمز کے باوجود اہمیت و فوقیت کو واضح کیا جس کی تفصیل گزشتہ شمارے میں دیکھی جا سکتی ہے۔
وطن عاپسی سے قبل 11 جنوری کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی تشکیل کردہ اوورسیز پاکستانیز پنجاب کی کمشنر ثمن رائے سے بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان میں بالخصوص اور بیرون ملک درپیش مشکلات، مسائل و شکایات پر تفصیلی تبادلۂ خیالات و تجاویز ہوئیں۔ اس میٹنگ میں مقتدر امریکن پاکستانی چوہدری منیر اختر اور رانا زاہد حمید بھی شریک رہے۔ کمشنر ثمن رائے نے ہمارے مشوروں اور تجاویزکو مفید و اہم قرار دیا اور وعدہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی بہبود و سہولت اور شکایات و تکالیف کے ازالے میں ہماری تجاویز کو اولیت دی جائیگی۔
٭٭٭٭٭٭












