بزرگ والدین کی خوش نصیب اولاد!!!

0
5
رعنا کوثر
رعنا کوثر

بزرگ والدین کی خوش نصیب اولاد!!!

ہر انسان جو جوانی سے بڑھاپے کا سفر طے کرتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے لمبی اور پرسکون زندگی میسر آئے۔ اگر اللہ کسی کو طویل عمر عطا فرمائے اور اسے بڑھاپے میں کثرت سے محبت اور عزت نصیب ہو جائے، تو یہ درحقیقت اس ضعیف انسان سے زیادہ اس کی اولاد کی خوش نصیبی ہے، بشرطیکہ اولاد اس حقیقت کا ادراک کر سکے۔ یہ معاملہ کلی طور پر نصیب سے جڑا ہے کہ زندگی کے اس آخری مرحلے میں اولاد کا سلوک کیسا رہتا ہے اور گھر میں موجود دیگر افراد یعنی بہو اور بچے کسی بزرگ کے بڑھاپے کو کس حد تک سہل بناتے ہیں۔ کچھ خوش نصیب لوگوں کا وقت اولاد کی فرمانبرداری، محبت اور عزت کی بدولت سنور جاتا ہے، جبکہ کچھ کے لیے یہی دورِ حیات عذاب بن جاتا ہے، خاص طور پر جب اولاد والدین کے بلند مقام سے ناآشنا ہو جائے۔ اکثر اولاد نافرمان اور لالچی ہو جائے تو وہ والدین کی قدر و منزلت کو فراموش کر دیتی ہے۔
مغربی ممالک، خاص طور پر ریاستہائے متحدہ میں اس حوالے سے افسوسناک صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں لوگ اپنے معمر والدین کو اپنے پاس بلا تو لیتے ہیں مگر ان کی توجہ کا مرکز والدین کی خدمت کے بجائے اپنا ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین کو محض ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں جب صرف والدہ حیات رہ جائیں تو اولاد ان کی بنیادی ضروریات سے بھی غافل ہو جاتی ہے اور ان سے گھر کے تمام کام کاج کروانے کے باوجود ذرا بھی لحاظ نہیں برتتی۔ اکثر یہ تلخ رویہ بھی سامنے آتا ہے جہاں بزرگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر انہیں ساتھ رہنا ہے تو انہیں گھر والوں کی شرائط پر ہی رہنا ہوگا۔ ایک واقعہ ایسا بھی سامنے آیا جس میں ایک ضعیف اور بیمار خاتون کی اولاد محض مالی منفعت میں دلچسپی رکھتی تھی اور ان کی بہو کا رویہ انتہائی ہتک آمیز تھا۔ اسی طرح ایک اور مثال میں ایک بیٹی نے اپنی والدہ کی کفالت کو اس شرط سے مشروط کر دیا کہ وہ گھر کے تمام امور سرانجام دیں گی۔
معاملہ صرف یہاں تک محدود نہیں بلکہ اکثر بچے والدین کو حکومت کی جانب سے ملنے والے وظیفے اور مالی امداد بھی خود ہضم کر جاتے ہیں اور بزرگوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ آج کل سرکاری سطح پر بزرگوں کی دیکھ بھال، نہلانے دھلانے اور خوراک کی فراہمی کے لیے طبی معاونین کی سہولت بھی موجود ہے، جس میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ خاندان کا کوئی فرد خود کو اس کام کے لیے رجسٹر کروا سکتا ہے۔ اگر اولاد یا بہو کے دل میں اللہ کا خوف اور ایمان ہو تو وہ اس سہولت کے ذریعے بزرگوں کا بہترین خیال رکھتے ہیں، بصورتِ دیگر تمام تر توجہ صرف اس کام کے عوض ملنے والی تنخواہ پر ہوتی ہے اور بزرگ بدستور نظر انداز کیے جاتے ہیں۔
جب اولاد ہی خود غرضی پر اتر آئے تو پھر بڑھاپے کی رسوائی مقدر بن جاتی ہے۔ اصل میں خوش نصیب وہی والدین ہیں جن کی اولاد ان کی خدمت کا حقیقی جذبہ رکھتی ہو اور اپنا روپیہ، قیمتی وقت اور بے لوث محبت ان کے قدموں میں نچھاور کرنے کو تیار ہو۔ معاشرتی اصلاح کے لیے یہ ضروری ہے کہ بیٹے اپنی شریک حیات کے ایسے کسی مشورے کو اہمیت نہ دیں جو والدین کی دل آزاری کا باعث بنے، اور اسی طرح بیٹیاں بھی شوہر کی جانب سے والدین کے معاملے میں کسی غلط بات پر اکساوے میں نہ آئیں۔ والدین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا بدترین ظلم، ناانصافی اور اولاد کی اپنی بدبختی کی علامت ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here