صدر ٹرمپ کا دماغی توازن قابل سوال بن گیا ہے

0
4
حیدر علی
حیدر علی

حالیہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیئے گئے بیانات جن میں ایک مکمل تہذیب کے خاتمے کی بات، ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی دھمکیاں اور پاپ لیو پر بلاوجہ تنقید شامل ہے، نے ان کے ذہنی توازن سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ اقتدار کے نشے میں ایک مطلق العنان حکمران کا روپ دھار چکے ہیں تاہم وائٹ ہاؤس ان تمام مفروضوں کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ اس صورتحال نے امریکی قیادت کے دوران جنگ کے خطرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
ڈیموکریٹس جو طویل عرصے سے ٹرمپ کی ذہنی صلاحیتوں پر معترض رہے ہیں اب ایک بار پھر 25 ویں ترمیم کے تحت ان کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب یہ تحفظات صرف سیاسی مخالفین یا ماہرین نفسیات تک محدود نہیں رہے بلکہ فوج کے جرنیل، وزارت خارجہ کے سفارت کار اور وہ دانشور بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جو ماضی میں دائیں بازو کی سیاست اور ٹرمپ کے حامی رہے ہیں۔ سابق کانگریس نمائندہ مارجوری ٹیلر گرینی نے بھی ایران سے متعلق صدر کے ریمارکس کو سخت کلامی کے بجائے پاگل پن سے تعبیر کیا ہے۔ دائیں بازو کے بعض پوڈ کاسٹرز نے بھی صدر کے ان بیانات کو نسل کشی کی ترغیب دینے والا قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے سابقہ ساتھیوں نے بھی اب ان کی ذہنی کیفیت پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ ٹائی کوب جو پہلے دور صدارت میں قانونی مشیر تھے، نے واضح طور پر کہا ہے کہ صدر ذہنی طور پر معذوری کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور رات کے پہر لوگوں سے الجھنا اسی کیفیت کا ثبوت ہے۔ سابق پریس سیکرٹری اسٹیفین گریشام نے بھی ان کی صحت کے بارے میں آن لائن انکشافات کیے ہیں۔ ان الزامات کے جواب میں ٹرمپ نے اپنے ناقدین کو آئی کیو کی کمی کا شکار اور احمق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ صرف سستی شہرت کے حصول کے لیے ایسی شر پسند باتیں کر رہے ہیں۔
اگرچہ عوامی سطح پر تحفظات پائے جاتے ہیں لیکن تاحال کانگریس میں ری پبلکن اراکین کی اکثریت ٹرمپ کی حامی ہے اور کابینہ کی منظوری کے بغیر انہیں عہدے سے ہٹانا ممکن نہیں ہے۔ امریکی عوام میں بھی اس حوالے سے تقسیم واضح ہے جہاں رائٹرز کی رائے شماری کے مطابق 60 فیصد افراد انہیں ذہنی طور پر غیر موزوں سمجھتے ہیں جبکہ 45 فیصد اب بھی انہیں چست و چابک قرار دیتے ہیں۔ کانگریس میں سینیٹر چک شومر اور حکیم جیفریز جیسے رہنما انہیں ایک بے قابو اور بیمار شخص قرار دے رہے ہیں جبکہ جیمی راسکین کا مطالبہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ڈاکٹر کو ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ صدر اپنے غصے پر قابو پانے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں خود کو ایک جینیئس قرار دیا تھا مگر حالیہ عرصے میں یادداشت سے متعلق سوالات پر ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس کا شکار ہیں تو پھر پورا ملک ہی اس کیفیت میں ہے کیونکہ ہر شعبے میں امریکہ کا استحصال کیا گیا ہے۔ ان کی جسمانی اور ذہنی اہلیت کا تجزیہ 2016 سے جاری ہے اور ان کے سابق چیف آف اسٹاف جان ایف کیلی نے تو اس موضوع پر ماہرین کی لکھی ہوئی کتاب کا مطالعہ بھی کیا تھا تاکہ وہ اپنے باس کی اصل صورتحال کو سمجھ سکیں۔ 80 ویں برس میں داخل ہونے والے صدر کے لیے یہ طبی و سیاسی سوالات ان کے مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here