امریکہ ایران محاذ آرائی بقول حفیظ جالندھری نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں، 1979 میں شاہ ایران کا تختہ اُلٹائے جانے کے بعد سے اب تک جو حالات اور نزاعی چپقلش رہی وہ تاریخ کا طویل باب ہی نہیں جبر و استبداد کی وہ حقیقت ہے جس کے مختلف پہلو حقوق و انسانیت کی تکذیب و تحقیر کے سواء کچھ نہیں۔ ان مراحل میں ایران کیساتھ جو مخالفانہ اقدامات و مظالم اختیار کئے گئے ان میں امریکہ بہادر کیساتھ اس کے لے پالک اسرائیل و مغربی طاقتوں کا کردار بھی بہت واضح رہا ہے۔ ان مظالمانہ سلسلوں کی تفصیل اس قدر طویل ہے کہ اظہار کیلئے ہمارا کالم متحمل نہیں ہو سکتا۔ مختصراً یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی ریاست، معیشت، معاشرت، بُود و باش حتیٰ کہ وجود برقرار رہنے کے خلاف ہر دقیقہ اپنایا گیا۔ اثاثوں کے انجماد سے لے کر وجود کے خاتمے تک کیلئے ہر حربہ اختیار کیا گیا مگر ایران کو لیبیا، عراق، شام و دیگر ممالک کی طرح مسخر نہیں کیا جا سکا۔ مفاہمت اور مصالحت کیلئے اوبامہ معاہدہ اور مذاکرات کے کھیل رچائے گئے لیکن نتائج محاذ آرائی اور حملہ آوری کی صورت میں ہی آئے۔ اس دشمنی کی بنیادی وجہ امریکی طمطراق کیساتھ اسرائیل ہی رہا ہے جس کے مفاد و تحفظ کیلئے یہ تماشہ برسوں سے غزہ سمیت مختلف حوالوں سے جاری ہے۔
قصہ مختصر امریکہ و ایران کے درمیان خصوصاً یورینیم افزودگی کے ناطے اوبامہ اکارڈ کو ٹرمپ نے اپنی پہلی ٹرم میں منسوخ کر دیا تھا، گزشتہ برس عمان میں مذاکرات ہونے کیساتھ ہی ایران پر حملہ بھی کر دیا گیا جس کے حوالے سے عمانی وزیر خارجہ کا بیان دھوکہ دھڑی کی اس سازش کا کا ڈھول کھولنے کے بارے سے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ 28 فروری سے جاری جنگ کے ناطے ہم اپنے گزشتہ کالموں کے توسط سے مسلسل اپنا تجزیہ اور اسرائیل کے اس جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کو اُکسانے کے حوالے سے اظہار بھی کرتے رہے اور امریکہ سمیت عالمی اثرات کے علاوہ ٹرمپ کی متلون مزاجی، ہر پل بدلتے بیانات اور بے اعتبار فطرت پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی عوام و اہم حلقوں میں عدم مقبولیت اور سیاسی تنزلی کی آگاہی دیتے رہے ہیں۔ غالباً انہی وجوہ کی بناء اور ایران کے تمام تر دُشواریوں کے باوجود عزم و استقلال کے سبب ٹرمپ کو پاکستان کے توسط سے مذاکرات کا ڈول ڈالنا پڑا۔
ہمیں بلا کسی نظریاتی و سیاسی اختلاف یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستانی سیاسی و عسکری لیڈر شپ اور خارجہ امور کے ڈیمو کریٹک اقدامات اور برادر اسلامی رہنمائوں بالخصوص چین کی معاونت سے اسلام آباد اکارڈ کے پہلے دور کا آغاز اچھا ہوا۔ دو روز تک خوش اسلوبی سے ضرور جاری رہا لیکن اکیس گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات کا اختتام جے ڈی وینس یاکشنرکے ٹرمپ کو فون کرنے کے بعد بے نتیجہ ہی رہا۔ مذاکرات کے احیاء کی کوششیں بھی جاری رہیں تو دوسری جانب ٹرمپ کے ہر لمحے بدلتے دھمکی آمیز و مصالحتی بیانات و دھمکیوں کیساتھ جنگی جنون کا سلسلہ بھی نہ تھما۔ آبنائے ہرمز پر خاش و جنگجوئی کی بنیاد بنی رہی لیکن دوسری جانب کوششیں جاری تھیں کہ مذاکرات کی کڑیاں دوبارہ جُڑیں۔ اس بار بھی مرکز مذاکرات اسلام آباد بنا۔ یہ سب سلسلہ جاری تھا۔ فریقین کو دوبارہ میز پر لانے کیلئے پاکستانی لیڈر شپ متحرک تھی تو ٹرمپ اپنی فطرت کے مطابق بدلتے بیانات و اعلانات سے کبھی دھمکیاں کبھی محبتیں دینے میں قلابے ملا رہے تھے لیکن عملاً اپنی غیر مقبولیت کا مداوا کرنے کیلئے مذاکرات کی بحالی کیلئے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مدح سرائی کرنے کیساتھ اپنے مزاج سے مجبور ایرانی قیادت کو کبھی مطعون کبھی تعریفوں میں مصروف ہونے کیساتھ دوسری طرف جنگی حربوں سے کام لیتے رہے۔
بہرحال دوسرے رائونڈ کیلئے کوششیں بار آور ہوئیں لیکن بایاں دکھا کر دایاں دکھانے کی عادت کے سبب ہرمز میں ایرانی کمرشل جہاز پر حملے اور قبضے کے اقدام سے مذاکرات پر مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات کی کیفیت ہے۔ ایران نے عدم شرکت کی وعید کر دی ہے، میزبان و میڈیٹر کوششوں میں مصروف ہیں کہ ایرانی قیادت کو شرکت پر راضی کریں لیکن ہمارے ان سطور کے تحریر کئے جانے تک حالات شش و پنج کا شکار ہیں۔ اب تک کی خبر یہی ہے کہ ایرانی وفد شرکت سے غریضاں جبکہ ایرانی ٹیم کو منانے کیلئے کوششیں ہنوز جاری ہیں۔ امریکی وفد کے آنے کی خبریں تو آرہی ہیں لیکن کیا یکطرفہ مذاکرات نتیجہ خیز ہونگے جبکہ جنگ بندی کا وقت اختتام پر ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ٹرمپ کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی اور خود پسندی و کاروباری فطرت کی وجہ سے ساری دنیا متاثر ہو رہی ہے بلکہ خود امریکہ بھی واحد سپر پاور کی حیثیت محروم ہوتا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اطوار، اقدامات اور فیصلوں کو دیکھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ موصوف امریکہ کے عدی امین ہیں جن کے متضاد رویوں اور عمل سے امریکی عوام بھی غیر یقینی اور مایوسی کا شکار ہیں۔ صدر ٹرمپ کے رویوں اور اسرائیلی سازشوں کے باوجود ہماری دعا یہی ہے کہ یہ بحران ختم ہو جو ساری دنیا کیلئے پریشانی و منفی اثرات کا سبب بنا ہوا ہے۔
٭٭٭٭٭














