حق کی راہ میں جو بھی ٹھہر گیا، وہی امر ہو گیا
کربلا کاہر چراغ آج بھی دلوں میں سحر ہو گیا
زندگی کی تیز رفتار مصروفیات میں انسان اکثر اپنے مقصد، اصولوں اور اپنی سمت سے غافل ہو جاتا ہے۔ وقت کی اس بیرحم دوڑ میں ہم دنیاوی اعتبار سے بہت کچھ حاصل تو کر لیتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل کامیابی بلند کردار، سچائی اور انصاف کی پاسداری میں ہی پوشیدہ ہے۔ ایسے ہی غفلت کے لمحوں میں محرم الحرام کا تقدس ہمیں جھنجھوڑتا ہے اور گویا یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف عام انداز میں جینے کا نام نہیں، بلکہ حق اور سچائی کے ساتھ جینے کا نام ہے۔ یہ بابرکت مہینہ ہر انسان کو کچھ دیر رک کر سوچنے، اپنے اعمال کا سنجیدگی سے محاسبہ کرنے اور زندگی کی حقیقی ترجیحات کو درست کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
کربلا کا واقعہ محض کوئی تاریخی سانحہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی زندہ درسگاہ ہے جو ہر دور کے انسان کو سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔ حضرت امام حسین اور ان کے جانثار رفقائ کی عظیم قربانی ہمیں یہ ابدی سبق دیتی ہے کہ حق کا راستہ بظاہر کٹھن اور آزمائشوں سے بھرپور ضرور ہوتا ہے، مگر اسی راستے میں حقیقی کامیابی، دائمی عزت اور روحانی سربلندی پوشیدہ ہوتی ہے۔ ظلم اور باطل کے سامنے جھک جانا وقتی طور پر آسانی تو دے سکتا ہے، مگر اپنے اصولوں پر مضبوطی سے قائم رہنا وہ لازوال روشنی ہے جو صدیوں تک انسانی دلوں کو منور رکھتی ہے۔ یہی وہ آفاقی پیغام ہے جو معرکہ کربلا کو ہر زمانے کے لیے زندہ، روشن اور بامعنی بناتا ہے۔
آج کا دور فکری انتشار، معاشرتی تقسیم اور شدید عدم برداشت کا شکار ہے، اس لیے محرم الحرام ہمیں باہمی اتحاد، اخوت، رواداری اور بلند اخلاقی جرات کا درس دیتا ہے۔ دور حاضر میں جب سچائی ذاتی مفادات کی نذر ہونے لگتی ہے اور انصاف کمزور پڑنے لگتا ہے، تو کربلا کا پیغام اور بھی زیادہ درخشاں ہو جاتا ہے۔ یہ پیغام ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود آپس میں احترام کا رشتہ برقرار رکھنا اور معاشرتی ظلم کے مقابلے میں کبھی خاموش نہ رہنا ہی ایک مہذب اور مضبوط معاشرے کی اصل پہچان ہے۔ ہمیں اپنے رویوں میں نرمی، اپنے الفاظ میں حکمت، اور اپنے عمل میں مخلصانہ انصاف پیدا کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور اخوت کو فروغ مل سکے۔
خصوصاً نوجوان نسل کے لیے پیغام کربلا نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ انہیں سچائی، دیانت، حوصلے اور اصول پسندی کی وہ بیش بہا متاع عطا کرتا ہے جو زمانے کی ہر آزمائش میں ان کا ساتھ دیتی ہے۔ ایک باکردار اور اصول پسند فرد نہ صرف اپنی ذاتی زندگی سنوارتا ہے، بلکہ ایک بہتر، باشعور اور بیدار معاشرے کی تعمیر میں بھی اپنا مثبت حصہ لیتا ہے۔ اس طرح محرم الحرام ہمیں ایک نئے عہد کی دعوت دیتا ہے کہ نفرت کے بجائے محبت، تفرقے کے بجائے اتحاد اور ناانصافی کے بجائے عدل و انصاف کو فروغ دیا جائے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں بہتر انسان بھی بناتا ہے اور ایک باشعور، متحد اور بیدار امت کی مضبوط بنیاد بھی رکھتا ہے۔
عفت، یہی پیغامِ حسین ہے، یہی چراغِ وفا
جو دل میں اتر جائے، وہی روشن کرے زمانے میں













