آتشِ عشقِ حقیقی و عرفانِ ذات کی شاعرہ!!!

0
10
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

ڈاکٹر عظمیٰ زرّین نازیہ نابغہ روزگار، صدائے دل فگار، عرفان و وجدان کا شاہکار اور چراغِ شعور و شعار ہیں۔ آپ شاعرہ، ادیبہ، مترجم اور محقق ہیں۔ دانشگاہِ پنجاب آپ کی فارسی دانی اور کیفِ عرفانی سے معمور، اہلِ علم و ادب آپ کی شاعری کی شرابِ ناب سے مخمور اور اہلِ معرفت و عرفان آپ کی الہامی و وجدانی شخصیت سے مسحور ہیں۔ پاک و ہند میں امیر خسرو، بیدل دہلوی، غنی کاشمیری، غالب دہلوی اور اقبال لاہوری کے بعد فارسی شاعری رْو بہ زوال ہوئی۔ ڈاکٹر عظمیٰ زرّین نازیہ کا یہ اعزاز ہے کہ انہوں نے فارسی شاعری کو عصرِ حاضر میں پھر آب و تاب دی۔ آپ کی فارسی شاعری کی کتاب نوائے زرّین ایران سے شائع ہو کر فارسی دانوں سے دادِ تحسین وصول کر چکی ہے۔ آپ کا عہدِ جوانی میں فارسی میں کہا گیا پہلا شعر یوں ہے:
نی دانم دلِ ریشم چرا اینطور گریاں است
کہ خون ریز دز چشمِ من، چرا پیوستہ باراں است
آپ حافظ شیرازی، سعدی، رْومی، سلطان باہو اور علامہ اقبال کی شاعری سے بہت متاثر ہیں۔ آپ کو انگریزی، فارسی، اردو اور پنجابی زبان پر مکمل عبور حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ ایک نامور اقبال شناس بھی ہیں اور آپ کی شاعری میں کلاسیکل رنگ و آہنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
آپ کا شعری مجموعہ گْلِ صدرنگ منظومات اور غزلیات کا مجموعہ ہے جس میں صوفیانہ، عارفانہ اور مذہبی رنگ پایا جاتا ہے۔ یہ مجموعہ کیف و کیفیت کی فراوانی اور اسرار و رموزِ یزدانی کی ایک ایسی شمع ہے جو الہامی اور وجدانی تپش سے دلوں کو گرما رہی ہے۔ گویا یہ شعری مجموعہ واقعی گْلِ صدرنگ ہے جس میں عشقِ حقیقی کی شدت، عرفانِ الٰہی کی حدّت اور افکارِ نو کی جدّت موجود ہے۔ آپ کا ایک شعر اردو ادب کے ماتھے کا جھومر مانا جاتا ہے اور اگر آپ کوئی اور شعر نہ بھی لکھتیں تو بھی یہ واحد شعر انہیں ادبی دنیا میں امر کرنے کے لیے کافی ہے۔ آپ فرماتی ہیں:
اْجلی راہوں پہ ہم بھی تو کھڑے ہیں
محبت موڑ پچھلا مْڑ گئی ہے
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here