کیا آزاد کشمیر بھی بنے گا ہندوستان !!!

0
11
رمضان رانا
رمضان رانا

تقسیم ہند کے وقت یہ طے پایا تھا کہ مسلم اکثریتی صوبے پاکستان کا حصہ بنیں گے جبکہ جن ریاستوں پر راجوں اور نوابوں کی حکومتیں ہیں وہ خود یہ فیصلہ کریں گی کہ وہ پاکستان یا ہندوستان میں سے کس کے ساتھ الحاق کرنا چاہتی ہیں۔ اس دوران حیدر آباد دکن اور جوناگڑھ کے مسلم نوابوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا لیکن بھارت نے بزور طاقت ان ریاستوں کو دبا کر ہندوستان کا حصہ بنا ڈالا۔ دوسری طرف کشمیر کا والی ایک ہندو مہاراجہ ہری سنگھ تھا جس نے مسلم اکثریتی آبادی کی اس ریاست کو دھوکہ دہی پر مبنی شرائط کے ساتھ ہندوستان میں شامل کر دیا۔ اس اقدام کے خلاف کشمیر میں شدید ردعمل سامنے آیا اور آخرکار اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا۔ اس صورتحال کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں کے پٹھانوں نے کشمیر کے حصول کے لیے وہاں حملہ کر دیا اور موجودہ آزاد کشمیر کا علاقہ بھارت سے چھین لیا۔ اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے ان قبائلیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جس سے یہ تاثر ابھرا کہ پاکستان کے بانیان نے جان بوجھ کر کشمیر کو متنازعہ بنائے رکھا۔ بعد ازاں 1951 میں فوج کے دو درجن فوجی افسران اور دانشوروں بشمول جنرل اکبر خان، بیگم نسیم اکبر اور فیض احمد فیض کیخلاف راولپنڈی سازش کیس قائم کیا گیا جن پر کشمیر پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام لگا کر جیلوں میں بند کر دیا گیا تھا۔
اس تمام صورتحال کے نتیجے میں کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا جس میں سے ایک حصے یعنی وادی کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہے۔ مودی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے کشمیر کی نیم خودمختاری کو ہڑپ کر لیا ہے اور مہاراجہ ہری سنگھ کی الحاق کی شرائط کو کالعدم قرار دے کر اب مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کی باقی ریاستوں کی طرح ایک عام ریاست بنا دیا ہے۔ اب وہاں غیر کشمیریوں کو بھی آباد ہونے، جائیداد خریدنے اور کاروبار کرنے کی اجازت مل چکی ہے اور وہ کشمیر کے شہری کہلا رہے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو آزاد کشمیر کے طور پر ایک خودمختار اور خود اختیار درجہ دیا گیا ہے۔ ظاہری طور پر یہ ایک خودمختار ریاست نظر آتی ہے کیونکہ یہاں کا اپنا صدر، وزیراعظم اور چیف جسٹس ہے اور کوئی بھی پاکستانی شہری یہاں زمین یا جائیداد نہیں خرید سکتا تاہم کوئی بھی پاکستانی یہاں کاروبار کر سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس صرف وزارت خارجہ، دفاع اور خزانہ جیسے کلیدی شعبے ہیں جبکہ باقی تمام محکمے آزاد اور خودمختار ہیں جن کا پاکستان کے دیگر اداروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزید برآں آزاد کشمیر کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان میں جائیداد خریدیں، کاروبار کریں اور سرکاری و غیر سرکاری ملازمتیں اختیار کریں۔
آزاد کشمیر کو ابتدائی دور میں سردار عبدالقیوم خان اور سردار محمد ابراہیم خان کی شکل میں مضبوط قیادت ملی تھی جن کے پاکستان کے ساتھ گہرے مراسم رہے ہیں۔ پھر ایک ایسا وقت بھی آیا جب آزاد کشمیر کی سیاست پر ارب پتی اور کھرب پتی افراد کا قبضہ ہو گیا جو مال و دولت خرچ کر کے کشمیر کے حاکم بننے لگے اور اس عمل نے عام کشمیری عوام میں شدید بے چینی پھیلا دی۔ یہی بے چینی آج کے دور میں ایک سخت ردعمل کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے جہاں آزاد کشمیر میں پاکستان کی سرپرستی سے الگ ہونے اور مکمل آزادی حاصل کرنے کے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ ان حالات کے بعد یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آزاد کشمیر کو مکمل طور پر اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو کیا وہ اپنا وجود برقرار رکھ پائے گا اور کیا بھارت مقبوضہ کشمیر کی طرح آزاد کشمیر کو بھی ہڑپ نہیں کر جائے گا۔ یہ خدشات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ بھارت پورے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور اس پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں یہ صورتحال آزاد کشمیر بھی بنے گا ہندوستان کے نعرے میں تبدیل ہو جائے جبکہ آزادی کے وقت کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ بلند ہوا تھا جس کے لیے پاکستانی عوام نے بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ پاکستان اس مسئلے پر بھارت کے ساتھ دو تین جنگیں بھی لڑ چکا ہے جس کا بدلہ لینے کے لیے بھارت نے 1971 میں پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا اور اج وہی سازشیں دوبارہ آزاد کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سراٹھاتی ہوئی نظر آتی ہیں جن سے بچاؤ کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here