ہنٹا وائرس سے شرح اموات میں اضافہ

0
8

نیویارک (پاکستان نیوز)کورونا کی وبا کے بعد اب ہنٹا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز نے طبی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد عوام کے لیے ہنگامی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ خطرناک وائرس بنیادی طور پر چوہوں کے فضلے اور ان کے پیشاب کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور دو مختلف اقسام کی سنگین بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ شمالی امریکہ اور کینیڈا میں یہ وائرس زیادہ تر انسانی پھیپھڑوں پر حملہ آور ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں مریض کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس مرض میں شرح اموات 40 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی ابتدائی علامات میں اچانک تیز بخار، جسم میں کپکپی، سر درد اور پٹھوں میں شدید کھچاؤ شامل ہیں۔ اگر یہ وائرس گردوں کو متاثر کرے تو بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر جاتا ہے اور گردے اچانک کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ حال ہی میں ایک بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے 8 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 5 کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دیگر مشتبہ مریضوں کی نگرانی جاری ہے۔ ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو وہاں صفائی کے دوران خشک جھاڑو یا مشین کا استعمال ہرگز نہ کریں کیونکہ اس سے وائرس فضا میں اڑ کر سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس کے بجائے جراثیم کش محلول سے جگہ کو گیلا کر کے صفائی کی جائے اور ماسک و دستانوں کا استعمال لازمی کیا جائے۔ واضح رہے کہ اس وائرس کے لیے اب تک کوئی باقاعدہ ویکسین دریافت نہیں ہوئی اور مریضوں کا علاج صرف ان کی ظاہری علامات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here