واشنگٹن (پاکستان نیوز) امریکا ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے خدشے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔برطانوی خام تیل کی قیمت بڑھ کر 107.46ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت تقریبا 101.62 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔پیڑول برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی تیل کی پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح پر آگئی۔برطانوی خبر رساں ادارے کے سروے کے مطابق اوپیک کی تیل پیداوار اپریل میں2 کروڑ بیرل یومیہ سے کم ہوکر 8 لاکھ 30 ہزار بیرل رہی۔آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کویت نے اپریل میں صفر خام تیل برآمد کیا۔متحدہ عرب امارات واحد خلیجی ملک جس کی تیل پیداوار اپریل میں بڑھی۔امریکا نے چین کو تیل کی ترسیل میں ایران کی مدد پر 12 افراد اور اداروں پر پابندیاں بھی عائد کر دیں۔امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں ہانگ کانگ میں قائم4 اور متحدہ عرب امارات میں قائم4 کمپنیاں شامل ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی بحران پر قابو پانے کیلئے سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے 5 کروڑ 33 لاکھ بیرل خام تیل توانائی کمپنیوں کو قرض پر فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔ روس کی وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں روس کی تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدن میں 39 فیصد اضافہ ہوا۔ سعودی تیل کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسرامین الناصر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی مزید چند ہفتے معطل رہی تو توانائی منڈیاں 2027 تک معمول پر آئیں گی۔










