نیویارک (پاکستان نیوز) متحدہ عرب امارات میں پاکستانی ورکرز کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور بے دخلی کی خبروں پر پاکستان کی جانب سے شدید تشویش اور بین الاقوامی سطح پر مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں جس سے خلیجی خطے میں پاکستانی افرادی قوت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں بین الاقوامی میڈیا بشمول نیو یارک ٹائمز اور دیگر آزاد ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ 5000 سے 15000 کے قریب پاکستانیوں کو متحدہ عرب امارات کے مختلف شہروں سے حراست میں لے کر ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ان افراد کو کسی باقاعدہ جرم یا نوٹس کے بغیر اچانک گرفتار کیا گیا اور اکثر کو اپنا سامان سمیٹنے یا بینکوں سے اپنی جمع پونجی نکالنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور متاثرہ افراد کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں مخصوص مذہبی و سیاسی پس منظر رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے اور بائیومیٹرک ڈیٹا کے ذریعے ان کی شناخت کی گئی۔ دوسری جانب پاکستان کی وزارت داخلہ اور دفتر خارجہ نے ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ متحدہ عرب امارات سے کسی خاص گروہ کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا بلکہ یہ معمول کی قانونی کارروائی ہے جو صرف ویزہ قوانین کی خلاف ورزی یا زائد المیعاد دستاویزات رکھنے والوں کے خلاف کی جاتی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کوئی دراڑ نہیں ہے تاہم دفاعی ماہرین اسے خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں 18 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو سالانہ اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں، اس لیے ان کی بے دخلی پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔










