سیاست، کھیل، تفریح، بزنس اور سینما ہمارے کالم کے یہی موضوعات ہیں۔ کبھی کبھی غیر معمولی طور پر ریستوران اور حلال گوشت مارکیٹ کا بھی ذکر ہو جاتا ہے۔ اس ہفتے جو بات ٹک ٹاک پر وائرل ہوئی وہ ہیکسٹ ہاؤس میں برانڈ، ویسے جیکسن ہائٹس میں واقع ڈیرہ ریستوران تھا۔ کسی ایک خاتون نے ڈیرہ کے خلاف شکایتوں کا ڈھیر لگا دیا اور دوسرے ناظرین نے ان کے تبصرے کے خلاف اور ڈیرہ کی تعریف میں لکھ ڈالا۔ خاتون کی بڑی شکایت ڈیرہ کا گندہ باتھ روم تھا جس کی نگرانی نہیں ہوتی۔ ہمارا بھی اتفاق ہوا تھا وہاں جانے کا اور باتھ روم میں فرش پر پانی تھا کہ پینٹ کو اوپر کرنا پڑا۔ اس کی وجہ ڈیرہ سے زیادہ اسے استعمال کرنے والے ہیں جو گاہک بھی نہیں ہوتے اور ریستوران کا باتھ روم استعمال کرنے آ جاتے ہیں۔ کوئی پابندی نہیں جیسے مساجد میں ہوتا ہے کہ فرش پر پانی گرا ہوتا ہے۔ بہت سوں کو شاید باتھ روم استعمال کرنے کا طریقہ معلوم نہیں، وہ شاید سیٹ پر اکڑوں بیٹھ جاتے ہیں۔ لہذا ڈیرہ اور دوسرے ریستوران والوں کے لیے استعمال کرنے کی ہدایات لکھ کر لگانا ضروری ہے۔ خاتون نے بے مزہ کھانوں کے بارے میں بھی لکھا ہے لیکن وہاں کے پائے کے کھانے کے پائے کا گھر یاد آئے گا جیسے جو ہم دوستوں کے ساتھ جا کر کھاتے تھے۔ خاتون کو بجائے ٹک ٹاک استعمال کرنے کے ڈیرہ کے مالک سے بات کرنی تھی اس لیے کہ کسی ریستوران کے لیے مخالفت میں لکھنا اتنا کچھ مناسب نہیں۔ غصہ آتا ہے جہاں آپ پیسے خرچ کریں اور آپ کو اچھی سروس یا اچھا کھانا نہ ملے۔ ویسے سٹی نیویارک نے کئی پاکستانی ریستورانوں کو گندگی پر چالان کیے ہیں، بعض اوقات بند بھی کیا ہے۔ سٹی اپنی کوتاہیوں پر غور نہیں کرتا کہ وہ دوسرے بڑے شہروں کی طرح سائیڈ واک پر باتھ روم دھوا دے یا بنوا دے جیسا کرونا پلازہ سب وے اسٹیشن کے نیچے بنا ہوا ہے۔ صرف وہاں ہی کیوں؟ اب ہم بات کرتے ہیں پاکستانی ریستورانوں کے کھانے اور سروس چارج کی۔ کھانوں کے لحاظ سے پچھلے ہفتے ہمارا تجربہ نہایت خراب تھا کہ وہ ملی اسٹریم میں ایلمانٹ روڈ پر چاندی ریستوران، جس کی شکایت ہم نے اس کے نوجوان مالک سے بھی کی تھی کہ چکن کڑھائی کچی بنائی ہے۔ ہمارے ساتھ جو دوست تھے ان کا بھی یہی کہنا تھا لیکن بجائے اس کے کہ وہ کہتے میں اسے دوبارہ پکواتا ہوں، وہ ہنس ہنس کر باتیں کرتے رہے۔ نان معلوم نہیں کس آٹے سے بنے تھے کہ کھانا مشکل تھا، ہضم ہونا دیگر بات ہے۔ گاجر کا حلوہ شاید کسی اناڑی نے بنایا تھا، چائے بے کار تھی، کچن میں کون کیسے کام کرتا ہے اس کا معلوم نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ آج کل میکسیکن نان لگانے والے ہیں، ملتے یہی، اسی فیصد پاکستانی ریستوران کا حال ہے۔ چکن کڑھائی میں انہیں ٹماٹر ڈالنے کا خیال نہیں آیا کہ ٹماٹر مہنگا ہے۔ سلاد کی جگہ نہ پیاز، نہ سلاد، نہ دہی کا رائتہ۔ اب یہ بات ہم فیس بک پر نہیں ڈالیں گے۔ ایلمانٹ اور ویلی اسٹریم کے ایک میل کے علاقہ میں، سینٹرل ایونیو اور ایلمانٹ روڈ پر گیارہ بارہ ریستوران ہیں لیکن چاندی شاید ٹاپ پر ہے۔ لیکن یہ ریستوران نان اور کھانوں کی قیمتیں بڑھانے میں سب سے آگے ہیں۔ دوسرے غریب افغانی ریستوران ہیں جو کافی تعداد میں ویلی اسٹریم اور ہکسول میں ہیں۔ ایک مناسب ریستوران قندھار ہے جو ہکسول میں ہے۔ عام بات یہ ہے کہ اگر چکن، آٹا بیس فیصد مہنگا ہوا ہے تو انہوں نے قیمتیں پچاس فیصد بڑھائی ہیں۔ اور یہ بھی عام بات ہے کہ کہیں کی بھی سروس اچھی نہیں، جگہ جگہ متبسم صورتیں شکلیں ملیں گی جو بے دلی سے کام کرتی یا کرتے نظر آتے ہیں۔ ہکسول میں ایک مشہور ریستوران ہے کباب جی، لیکن وہ ہٹ یا مس ہے۔ سن شائن کا ویک اینڈ بفے اچھا ہے لیکن عام دنوں میں ایسا نہیں، انہیں مناسب کیٹرنگ کے لیے لے سکتے ہیں۔ اب اس کے مقابلے میں آئیں ہندوستانی ریستوران فل سروس پر، جہاں سروس نہایت اچھی، کھانا قرینہ کا سجا ہوا، ضروری نہیں کہ وہ پسند آئے کہ ہمارا ٹیسٹ کراچی اور لاہور کا ہے۔ پاکستانی ریستوران نیویارک میں کیوں پروفیشنل نہیں، دو وجہ ہیں، ان کے مالکان نے کبھی پاکستان میں یہ کام نہیں کیا، یہاں یہ صرف ریستوران چلا لیتے ہیں، دوسرے معنوں میں جیب پر ڈاکا مارتے ہیں۔ شکایت کرو تو ہنسی دیتے ہیں چاندی ریستوران کے مالک کی طرح۔ انہیں مشورہ دیں گے کہ وہ ہیوسٹن ٹیکساس جا کر دیکھیں، ایک سے ایک عمدہ اور محمدہ کھانوں کے ساتھ، مگر وہ کیوں جائیں، کاروبار چلتا ہے۔













