یکم محرم الحرام، امن معاہدہ اور دور حاضر کے یزیدوں کی تاریخی پسپائی کا دن!!!

0
9

یکم محرم الحرام، امن معاہدہ اور دور حاضر کے یزیدوں کی تاریخی پسپائی کا دن!!!

دنیا نے حال ہی میں ایک ایسے امن معاہدے کا مشاہدہ کیا ہے جس نے عالمی سیاست اور معیشت کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے مابین اس معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی اگرچہ عالمی منڈیوں میں ایک عارضی اطمینان دیکھا گیا، تجارتی حصص کی قیمتیں اوپر گئیں اور ایندھن کی قیمتوں میں کسی حد تک کمی کا رجحان پیدا ہوا، تاہم اس پورے منظر نامے کے پس پردہ جو حقائق پوشیدہ ہیں، وہ گہری سیاسی بصیرت کے متقاضی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگیں مسلط کی جاتی ہیں تو ان کا خمیازہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عام انسان کی جیب اور زندگی پر پڑتے ہیں۔ تزویراتی ماہرین کے مطابق اس جنگ نے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان برپا کیا جس سے روزمرہ کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئیں اور جنگ کی آڑ میں مالیاتی منڈیوں میں ہیرا پھیری کرنیوالے سرمایہ داروں نے تو اربوں کمائے، مگر غریب طبقہ پس کر رہ گیا۔ یہ سوچنا بھی ایک خام خیالی ہے کہ معاہدے کے بعد قیمتیں جوں کی توں اپنی پرانی سطح پر واپس آ جائیں گی، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ وہ عام صارف کو پورا ریلیف کبھی منتقل نہیں ہونے دیتیں۔
اس پورے معرکے کا سب سے اہم اور نظریاتی پہلو اس معاہدے کے وقت کا انتخاب ہے، جو عین اسلامی سال کے پہلے دن ڈیجیٹل دستخطوں کے ساتھ عمل میں آیا۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ اس سرزمین کی فکری اور روحانی جڑوں کا عکاس ہے جہاں کی اکثریت حضرت امام علی اور حضرت امام حسین کی تعلیمات، ان کے فرمودات اور لازوال قربانیوں کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہے۔ ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ، جن کے والد محترم آیت اللہ خامنہ ای اس جنگ کے پہلے ہی روز امریکی اور اسرائیلی حملے میں جامِ شہادت نوش کر گئے تھے، نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حسینی طرزِ فکر کو اپنا رہبر بنایا۔ اس طویل جنگ کے دوران چالیس سے زائد اعلیٰ عسکری جرنیلوں، مدرسوں کی سینکڑوں معصوم طالبات اور ہزاروں عام شہریوں کی شہادتوں کے باوجود وہاں کی قیادت اور عوام نے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی استعماری قوت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ جب ایمان مضبوط ہو تو دنیا کی بڑی سے بڑی مادی طاقت بھی آپ کو مغلوب نہیں کر سکتی۔
امریکہ نے ماضی قریب میں جس طرح دیگر ممالک میں طاقت کے بل بوتے پر حکومتیں بدلیں، وہ ایران کے معاملے میں بری طرح ناکام رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ تہران کے پاس صرف نظریاتی قوت ہی نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت، جدید ترین ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی جیسے دفاعی ہتھیار بھی موجود تھے، جنہیں روس، چین اور کوریا کی تکنیکی معاونت حاصل تھی۔ اگرچہ اس جنگ کا اصل ایجنڈا ایک مخصوص ریاست کی توسیع پسندی اور مشرق وسطیٰ پر مکمل اجارہ داری قائم کرنا تھا، جبکہ امریکہ کو بیجنگ اور ماسکو کے خلاف اس خطے کے وسائل، زمین اور ٹیکنالوجی پر کنٹرول درکار تھا، لیکن اس مزاحمت نے ان تمام خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔ اس جنگ کے خاتمے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اب مغربی چوہدراہٹ کا سورج غروب ہو چکا ہے اور طاقت کا توازن اب مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جہاں ایک نیا بلاک جنم لے رہا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں سب سے زیادہ قابلِ فخر اور تاریخی کامیابی پاکستان کے حصے میں آئی ہے۔ اسلام آباد نے جس مدبرانہ، غیر جانبدارانہ اور مخلصانہ انداز میں ثالثی کا کردار ادا کیا، اس نے بین الاقوامی سفارت کاری میں پاکستان کی دھاک بٹھا دی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف دو بڑے حریفوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا بلکہ خطے میں نئے دفاعی اور معاشی معاہدوں کی بنیاد رکھ کر تاریخ کو ایک بالکل نئے اور مثبت رخ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک ایسی شاندار فتح ہے جس نے دنیا بھر میں ملک کی ایک نئی، بااثر اور امن پسند پہچان متعارف کروائی ہے۔ اس بے مثال سفارتی کامیابی پر پاکستانی قیادت اور ادارے بلاشبہ تحسین کے مستحق ہیں، کیونکہ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان عالمی امن کے قیام میں ایک ناگزیر قوت بن چکا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مستقل امن کی ضمانت دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، پاکستان کا یہ کردار خطے کے استحکام کے لیے ایک روشن امید کی مانند ابھرا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here