١٢ویں صدی عیسوی میں انگلینڈ میں ایک بڑے مقبول چور نے محاذ بنایا کہ وہ بڑے بڑے مالداروں کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر لوٹتا تھا اور غریب انگزیزوں کی مدد کرتا تھا۔ جب فلمیں بننا شروع ہوئیں تو اس شخص پر فلمیں بنائی گئیں نہ صرف اس پر جس کا نام رابن ہڈ تھا بلکہ دنیا میں جہاں جہاں فلمیں بنتی ہیں۔ وہاں کی زبان میں فلمیں بنیں انڈیا میں اس پر فلم بادل بنی تھی۔ آج یہ ہی حال امریکہ کا ہے جہاں ایک فیصد اقلیت جو ارب پتی ہے امریکنز کو لوٹ رہی ہے اور ضروری ہوگیا ہے کہ کوئی روبن ہڈ پیدا ہو۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار صدر بنے تو امریکہ کی اکثریت نے ہم سمیت ٹرمپ کو رابن ہڈ سمجھ کر ووٹ دیا۔ اور امیدیں لگائے رکھیں کہ اب رابن ہڈ اپنے طیایر میں سوار جگہ جگہ چائے گا اور لیٹروں کو پکڑے گا اس سے پہلے بھی بش کی شکل میں باپ بیٹے صدر بنے تھے انہوں نے امریکی لیٹروں کو چھوڑ کر باہر کی راہ لی۔ سب سے پہلے عراق اور پھر لیبیا میں جا پہنچے۔ عراق سے صدام حسین کے ذاتی دیوار میں چھپے ہوئے آٹھ بلین ڈالر ہتھیائے پھر لیبیا کے فدافی سے ڈیڑھ بلین وصول کئے لیکن امریکن کو کچھ نہیں ملا۔ اس کے بعد ایک کمزور اور بڑی عمر کے بائیڈین آئے لیکن انہوں نے بھی امریکن خزانے کا منہ کھول کر اسرائیل پر ڈالرز نچھاور کئے۔ اور اب صدر ٹرمپ نے دنیا کے ہر قانون کو توڑ کر امریکہ کو عظیم تر بنانے کا نعرہ لگایا جو اب بھی لگ رہا ہے۔ لیکن امریکی عوام ان کی ہر بین الاقوامی واردات پر امید لگاتے رہتے ہیں کہ وہ عظیم بن رہے ہیں لیکن جو عظیم ہیں وہ صرف ایک فیصد ہیں اور صدر ٹرمپ 99 فیصد کو بھول کر ان کی مدد کرتے ہیں اور آنکھیں بند کئے امریکی عوام کو ہر طرح سے لوٹنے میں مدد کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں انہیں اپنے وعدے سے مختلف کیا سوجھی کہ من مانی کرکے وینزویلا کے صدر مدارو کو پکڑ کر لے آئے۔ امریکی خوش کہ اب اُن کی موج ہی موج ہوگی اور ساتھ ہی دوسرے محاذ کھول دیئے نعرہ لگایا کرین لینڈ ہمارا ہے اور ڈنمارک نے بتایا کہ وہ تو صدیوں سے ہمارے ساتھ ہے۔ لیکن ٹرمپ صاحب کا ارادہ نہیں بدلا ہے ادھر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے شہریوں نے سفارت خانوں کے اردگرد گھیرائو کرا ہوا ہے۔ اسی دوران انہوں نے مطلب صدر امریکہ دوسرے معنوں میں رابن ہڈ ایک فیصد امریکیوں کے لئے بیرونی ملکوں پر دھیان دیا ہوا ہے۔ پڑوسی ملک کناڈا سے بھی بگاڑ پیدا کرلیا ہے پہلے کہتے تھے کناڈا امریکہ کی ریاست بن جائے پھر کسی نے کہا جناب ایسا ممکن نہیں ہے اسرائیل نے صرف تیل والے ملکوں پر قبضہ کرنے کو کہا لیکن ان کی معلومات میں کناڈا بھی تیل والا ملک ہے اسے چھوڑ کر انہوں نے محصول لگا دیا جب وہاں کے وزیراعظم نے للکارا۔ اور پلٹ کر ہمارے صدر صاحب اسرائیل کے کہنے پر ایران پر زبانی جمع خرچ کرنے لگے ایران میں ہزاروں جاسوسوں کو پکڑ لیا جو خمینی کے خلاف سڑکوں پر تھے کہ مہنگائی بہت ہے یہ بھی امریکہ کی نوازش تھی کہ ایران پر برسوں سے پابندی لگائی ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بزنس نہیں کرسکتے۔ جیسے تیسے ایران نے گزرا کیا ہے ہماری پاک فوج کے جرنیل ان کی مدد کر رہے ہیں پیٹرول کی اسمگلنگ کرکے وہ بھی رابن ہڈ بنے ہوئے ہیں کہ عوام کو پتہ نہیں ہونے دیتے کہ کتنا مال باہر سے اور کتنا مال اندر سے لوٹ رہے ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں امریکہ کا آشیرواد شامل ہے۔ ایران کے محب وطن عوام کو پتہ چلا کہ یہ اُن کے ملک کے خلاف سازش ہے تو وہ لاکھوں کی تعداد میں خمینی کے لئے سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ اسرائیل کی نظریں ابھی بھی ا یران پر ہیں وہ چاہتا ہے جب تک رابن ہڈ ہے جو چاہو کروالو دیکھیں اب رابن ہڈ کیا کرتا ہے اسرائیل کے لئے ادھر خمینی کے اچھی اور پتے کی بات کی ہے۔ اگر امریکہ کی دوستی سے ملک بچتے تو آج یوکرین بچ گیا ہوتا اور اگر دشمنی سے ملک ختم ہوتے تو ایران ختم ہوچکا ہوتا اور ساتھ ہی برنی سینڈرز نے کئی بیانات دیئے ہیں۔ ”بین الاقوامی قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہے صدر ٹرمپ کے نزدیک ایسا کرنے جو بدنظمی پھیل رہی ہے اس کا روکنا مشکل ہے۔ وینزویلا پر حملے سے بین الاقوامی قانون کی ڈھٹائی کے ساتھ خلاف ورزی کو اب ہری جھنڈی ملتی ہے اسی دوران وینزویلا کی مخالف معمولی لیڈر کو رینا مچاڈو کے امریکہ آکر اپنا نوبل امن پرائز صدر ٹرمپ کے حوالے کرنے پر نوبل کمیٹی نے اپنے (غلط) فیصلے پر غور کرنا شروع کردیا ہے اس سے پہلے وہ بھی اوبامہ کے وقت میں غوروفکر کر چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ چھ ممبران کی کمیٹی میں کوئی باہر کا جاسوس گھسا ہوا ہے۔
یہ لکھتے وقت ہمیں ہالی وڈ کی فلم ”وال اسٹریٹ” یاد آگئی جس کے آخر میں مائیکل ڈگلس پولیس کی گرفت میں جیل جانے سے پہلے مڑ کر لوگوں کی طرف دیکھتا ہے اور بیچ کی دو انگلیوں سے V کا نشان بنا کر کہتا ہے GREED IS GOOD ۔(لالچ اچھی چیز ہے ہمارے رابن ہڈ نے یہ فلم ضرور دیکھی ہوگی۔ ادھر امریکہ میں جگہ جگہ ان کے حکم پرICE پولیس کے پھیلائے لوگ پکڑ دھکڑ میں مصروف ہیں۔ وہ غیر قانونی افراد کے ساتھ یہاں کے پیدائشی شہریوں کو بھی پکڑ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے الیکشن سے پہلے اور وعدوں کے ساتھ یہ وعدہ بھی کیا تھا۔ ایسا ہونا چاہیئے لیکن طریقہ کار ذرا وحشیانہ ہے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ میں عزت کے ساتھ گھر گھر اور فیکٹری، ریستورانوں، کھیتوں سے غیر قانونی لوگوں کو پکڑ کر واپس ان کے ملک بیچ دیتے ہیں مگر اس ملک میں غیر قانونی لوگ٢٠ یا تیس سال سے رہ رہے ہیں، بچہ پیدا کر رہے ہیں اسکول بھیج رہے ہیں اور گورنمنٹ انہیں پال رہی ہے وہ خود کام کرکے اپنی آمدنی چھپاتے ہیں ایک لمبی بحث ہے۔ دیکھنا یہ ہے کیا یہ لوگ واپس اپنے ملک کو جاسکینگے یا وکیل انہیں بچا پائینگے۔
اس سال نومبر میں مڈٹرم الیکشن ہونگے ڈیموکریٹک کو سینیٹ میں٣ اور کانگریس میں4 لوگوں کی ضرورت ہے۔ جو ڈیموکریٹ پارٹی کو ریپبلکن پر حاوی کردے اور یہ یقینی ہوچکا ہے کہ صدر ٹرمپ کا مواخزہ (IMPECHMEN7) بھی ہوسکتا ہے یعنی ان پر پابندی لگ سکتی ہے یا صدارت کی کرسی چھوڑنا پڑیگی۔ صدر ٹرمپ رابن ہڈ ہیں لیکن صرف ایک فیصد امریکن کے اور وہ عوام کو لوٹ کر انہیں مزید مالدار بنائینگے۔ عوام سے جو وعدے کئے تھے وہ ایک بھی پورا نہیں کرسکے ہیں ان ہی بقول مہنگائی 2.7% ہے جب کہ ہمارا کہنا ہے کھانے پینے کی چیزیں 10 فیصد اور بڑھی ہیں ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور ایک فیصد ارب پتیوں کے دوست ہیں لیکن عوام سے دور ہیں!!!۔
٭٭٭٭٭٭













