مملکت خداداد پر معذور، لولے ، لنگڑے ، بہرے اور اندھے حکمران مسلط ھیں ۔پیپلز پارٹی کے سربراہ اور صدر پاکستان کو دیکھا جائے ۔ جو بغیر سہارے کے چل نہیں سکتا ۔ ملکی تقدیروں کے فیصلے انہی لنگڑے ، لولے اور معذوروں کے ہاتھ میں ھیں۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کا ستیاناس کردیا گیا ھے۔ سندھ اور کراچی کے انتخابات میں قوم نے ان مجرموں کی مساوات بھی دیکھی اور سندھ کی زبوں حالی بھی دیکھی ھے۔ یہ بے جانوروں کا وہ ٹولہ ھے جنہیں نہ خوف خدا ھے اور نہ مرنے کا خوف۔چالیس سال سے بھٹو اور نواز خاندان ملک پر حکمران ھیں ۔ تین بار نواز شریف وزیراعظم رہ چکا ابھی تک طمع ختم نہین ھوا۔ کبھی باپ کبھی بھائی ، کبھی بیٹی اور کبھی بھتیجا۔ اقتدار کو ریوڑیوں کیطرح بانٹ رہے ھیں ۔ اگرچوہدری شجاعت حسین کو دیکھا جائے۔ تو معلوم ھوگا کہ قوم انتہائی بدقسمت ھے کہ جو بیچارہ شخص بول نہیں سکتا ۔ وہ ائمچور باڈی بلڈنگ اسوسی ایشن پاکستان کا صدر ھے۔ مسلم لیگ ق کا صدر ھے۔ شہباز شریف کو دیکھا جائے ۔ تو آپ محسوس کرینگے کہ وزیراعظم کے منصب پر ایک جوکر شخص بیٹھا ھے۔جو گزشتہ چالیس سال سے ملک پر مسلط ھیں۔ ۔ ایک الطاف حسین تھاجو ذہنی طور ہر مفلوج تھا ۔ جس کی ایک اشارے پر پورا شہر بند ھو جاتا تھا ۔ جسے مرضی قتل کرواتا۔ ملکی ادارے اس کے سامنے بلونگڑے نظر آتے تھے۔ یہی حال آجکل پی ٹی آئی کا ھے ۔ جس کا طرز سیاست ایم کیو ایم کی ڈگر پر چل نکلا ھے ۔ جو لوگ خود ایک مسئلہ ھیں ۔ قوم پر عذاب ھیں وہ عوامی مسائل کوحل کیسے کرینگے۔ پیپلز پارٹی ، ن لیگ ، ایم کیو ایم ،فضل الرحمن گزشتہ چالیس سال سے اقتدار میں ھیں ۔ پی ٹی آئی چودہ سال سے خیبر پختونخوا ، اور مرکزی حکمران رہی ۔ یہ لوگ اپنے دور اقتدار میں کچھ نہیں کرسکے ۔ اب اقتدار میں آکر کیا تیر مار لینگے۔ ان بوسیدہ اور چلے ہوئے کارتوسوں کو سیاست چھوڑ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے کہ انہوں نے قوم کو دھوکہ دیا ۔ ان دھوکے باز مکروہ چہروں کی ٹانگیں قبر میں ھیں لیکن یہ ظالم قوم کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ یہ لوگ عوام کی خدمت کے لئے آتے ھیں۔مگر عوام کو پریشانیاں بانٹے ھیں۔ یہ بدنسل لوگ ھیں ۔ بے حس جانور ھیں ۔ سفاک درندے ھیں ۔ کسی شخص نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ خضرت خاندانی لوگوں کی کیا نشانیاں ھیں۔ بزرگ نے فرمایا خاندانی لوگ آسانیاں بانٹتے ھیں ۔اور گھٹیااور بد نسل لوگ پریشانیاں بانٹتے ھیں ۔ جیسی نسل ویسی فصل ۔ ہر ادارہ میں لوٹ مار کا بازار گرم ھے ۔ بیوروکریٹس، ججز، ارکان اسمبلی و سینٹ فری بجلی، گیس اور پٹرول استعمال کرتے ھیں۔ اس بدمعاشیہ کی فری بجلی۔ فری گیس ،فری پٹرول بند ھونا چاہئے۔ان ظالموں نے ملک کو کنگال اور عوام کو مفلوک الحال کر چھوڑا ھے۔ عوام کو بلوں اور مہنگائی نے تو پہلے ہی ستا رکھا تھا۔ اب ہیلمٹ کی اتنی اتنی بڑی ٹکٹیں دی جارہی ھیں ۔ کہ مزدور آدمی رونے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ کوئی سٹوڈنٹ فیس کے ہاتھوں مجبور خود کشی کررہا ھے۔ کوئی گھروں میں فاقوں کیوجہ سے اور کوئی بے تحاشا بلوں کی وجہ سے۔ غریب کے آنسو ھیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے ۔ غریب کا آنسو اور صدا عرش الہی پر پہنچتی ھے۔ خضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو طاقتور ھے کمزور کا خیال کرے ۔ جو دولت مند ھے غریب کا خیال کرے ۔ آج تو حکمران غریب کے سر میں خاک اڑاتے ھوئے گزر جاتے ھیں۔ خضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ھے ۔ کہ آنسو کا ہر قطرہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ مہنگا ھے۔لیکن کوئی اس کی قیمت اس وقت تک نہیں دے سکتا۔جب تک اسکی اپنی آنکھ سے آنسو نہ نکلے۔ تبدیلی کے نام پر ایک پارٹی کو اسٹبلشمنٹ نے مسلط کیا ۔ آج ان سے جان چھڑا مشکل ھے ۔ پی ٹی آئی کے یو ٹیوبرز بد تہذیبی کے تمام حدیں پھلانگ چکے ھیں ۔جنہیں نہ تمیز ھے اور نہ ان میں اخلاقیات ھیں ۔بے حیائی کی تمام حدیں عبور کرچکے ھیں ۔مذہب کے ٹچ نے انہیں ایکسپوز کیا ھے ۔ یہ ایک کلٹ ھے ۔ جس نے الطاف حسین والا فاشزم متعارف کرایا ھے۔ جیسے ایم کیو ایم نے نوجوان نسل کو تباہ کیا ایسے ہی پی ٹی آئی یوتھ کو برباد کررہی ھے۔یوتھئیے اپنیمہاتما گاندی کیطرح جھوٹے اور یو ٹرنیئے ھیں ۔جنہیں عوامی مسائل کہ نہ ادراک ھے اور نہ شعور ۔ شخصیت پرستی کے حصار میں جکڑے ھوئے ھیں ۔ پاکستان مسائل کا شکار ھے ۔ پی ٹی آئی ھو یا ن لیگ، ایم کیو ایم ھو یا پیپلز پارٹی انہیں عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں ۔ اندھے اور بہرے حکمران ھیں ۔ ملک میں جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی ایسی جماعت نہیں جو عوامی ایشوز پر بات کرتی ھو۔ کسی بھی پارٹی کے پاس نہ منشور ھے اور نہ کوئی پروگرام ۔ منشور مرتب کرنے والوں کا کردار مثالی ھونا چاہئے ۔ کیونکہ جو بات آپ ایک ڈاکومنٹ کی شکل میں پارٹی کے ویثرن کے طور طے کرتے ھیں ۔آیا ان پارٹیوں کے ذمہ دارن کا کریکٹر اس منشور سے مطابقت رکھتا ھے؟ کیا یہ پارٹی جو جمہوریت کا علم لیکر اٹھتی ھے ۔ آیا اس میں جمہوریت ھے کہ نہیں ۔؟ کیا پارٹی کے ذمہ داران باقاعدہ الیکٹڈ ممبرز ھیں یا اقربا پروری، ذاتی پسند یا ایک حکم نامے کے ذریعے پارٹی عہدوں پر براجمان ھیں۔ ایسی پارٹیوں کا حال برا ھی ھوا کرتا ھے۔ عوام الناس کو (پرانی بوتل نیا لیبل ) کو بغور دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ وہی گھسے پٹے ،بدعنوان اور روایتی لوگ تو نہیں جو بار بار لیبل بدل کر عوام کو بیووقوف بنانا چاہتے ھیں ۔ جیسا کہ تبدیلی کے نام پرپی ٹی آئی نے قوم کو بنایا۔ صرف جماعت اسلامی ھی ایسی جماعت ھے ۔ جس کا منشور باقاعدہ ایک کتابچے کی شکل میں موجود ھے۔ جس پر جماعت اسلامی کے لوگ عمل بھی کرتے ھیں۔ ان میں خوف خدا اور آخرت کی جوابدہی کا احساس ھے۔ یہی وہ احساس ھے جو قرآن و سنت کی تعلیمات سے حاصل ھوا کرتا ھے۔ جماعت اسلامی کا خاصا ھے کہ وہ رواداری اور اعتدال کی پالیسی پر کاربند ھیں ۔ ہر کسی مسجد مین نماز پڑھتے ھیں ۔ سبھی کلمہ گو افراد کو مسلمان سمجھتے ھیں۔ نہ کفر کے فتوے بانٹتے ھیں اور نہ ہی عہدوں کی بندر بانٹ کرتے ھیں ۔ اقربا پروری جیسی لعنت کے خلاف ھیں ۔ جماعت اسلامی ایسی تعلیمات کو فروغ دیتی ھے ۔ جس میں فرقہ بندی ،نسلی اور مذہبی تعصب نہ ھو ۔ دشمنی اور نفرت نہ ھو۔ جس میں کرپٹ ذہنیت نہ ھو۔ایمان و دیانت کے اہل افراد کے مجموعہ کا نام جماعت اسلامی ھے۔ جماعت اسلامی کے منشور کی بنیادیں قران و سنت پر ھیں ۔ عبادت خدا کی ۔ اطاعت مصطفے کی ۔ خدمت مخلوق خدا کی ۔ کے ستونوں پر جماعت قائم ھے یہی ایک مومن کا وصف ھے۔ پورے ملک میں کردارکے اجلے۔ قرآن و سنت کے پابند۔ ایمان و دیانت کے علمبردار۔ نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والے ،وطن کی سالمیت پر جان نثار کرنے والے کمیٹڈ آپ کو صرف ایک جماعت میں ھی ملیں گے۔ وہ جماعت صرف اور صرف جماعت اسلامی ھے۔جو اسلامی فکر ، مذہبی ھم آہنگی ،دین کے بنیادی نظریہ کی امین ھے۔ اگر ھم چاہتے ھیں کہ ھمارا ملک مخفوظ ہاتھوں میں ھو۔سیاستدانوں کی ذاتی ترقی کی بجائے ملک ترقی کرئے۔ عدالتیں صیح کام کریں عوام الناس کے کام بغیر رشوت ھوں ۔ انصاف دہلیز پر ملے۔ تو پھر حل صرف جماعت اسلامی ھے ۔ جیسا کہ آپ دیکھتے ھیں کہ سندھ میں بچوں کے پاں میں چپل بھی نہیں ھے ۔لیکن وہاں بھٹو زندہ ھے۔ سندھ میں ستر لاکھ بچے تعلیم سے محروم ھیں ۔ پنجاب میں دو کڑوڑ بچے تعلیم سے محروم ھیں ۔ مگر وڈیروں کے بچے بیرون ملک اعلی تعلم حاصل کرتے ھیں تاکہ عوام کو مزید محکوم بنایا جاسکے۔ غریب جن کو ووٹ دیتا ھے۔ انکی جان کی نہ کوئی قیمت ھے اور نہ ہی اہمیت۔ سارے گند کے ذمہ دار جرنیل ھیں ۔ انہیں اللہ نے طاقت اور سب سے بڑا عہدہ عطا کیا ھے ۔ انہیں ظالموں کو ملک و ملت پر مسلط نہیں کرنا چاہئے۔ جرنیل ظالم نہ بنیں ، لوگوں کو حقوق سے محروم نہ رکھیں ۔ ظالم کے دست و بازو نہ بنیں ۔ آپ نے پورے ملک کو بلڈرز مافیا بنادیا ھے ۔ آپ لوگوں کے لالچ اور طمع نہ عوامی مفاد کو دا پر لگا رکھا ھے۔ نوجوان نسل کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ھے ۔اب تو ایک خافظ قرآن ملک کی طاقت کا اصل منبع ھے ۔ اس نہیں معلوم کہ کرپٹ اشرافیہ ملک کو لوٹ رہا ھے۔ ادارے تباہ ھورہے ھیں انصاف نوٹوں میں تولا جارہا ھے۔ غریب تعلیم اور صحت سے محروم ھے ۔ بیروزگاری بڑھ رہ ھے ۔ مہنگائی مزدوروں اور طلبہ سے زندگیاں چھین رہی ھے ۔ کیا یہ ظالم کلمہ گو مسلمان ھیں ۔جن کی چھتر چھایا میں کرپٹ حکمران عوام کو جانوروں سے بدتر سمجھتے ھیں ۔ مسلمان ظالم اور سفاک نہیں ھوا کرتا۔مسلمان بے حس اور لاپروا نہیں ھوا کرتا۔ بے شرم اور بے حس اسٹبلشمنٹ جنہوں نے کریمنلز کو کراچی اور پاکستان پر مسلط کررکھا ھے ۔ روزانہ آتشزدگی کے واقعات، گٹر میں گرتے بچے، ٹرالیوں کے نیچے کچلتے لوگ ،نہ کوئی پرسان حال ،نہ کوئی والی وارث ۔بے ترتیب ریاست، بے ڈھنگے کام،لوٹ مار اور کرپشن ۔ کیا پاکستان کا قیام اسی لئے تھا کہ عوام سسک سسک جئیں اور مریں ۔ جب مظلوموں کی آوازوں کو دبایا جائے۔تو یہ لاوا ایک دن ضرور پھٹتا ھے ۔جو سب کچھ بہا کرلے جاتا ھے ۔ ظالمو! اس دن سے ڈرو جب حساب دینا پڑے۔ کل کراچی میں انتہائی اندوہناک واقعہ ھوا جس سے حکمرانوں کی بے حسی اور مس مینجمنٹ دیکھنے میں آئی ۔ کراچی کے گل پلازہ میں لگی آگ سے حکومتی نااہلی سے اربوں روپے کا نقصان ھوا ۔سینکڑوں لوگ بیروزگار ھوئے۔ جنکا کوئی پرسان حال نہیں۔سندھ حکومت انتہائی نااہل ھے جن کی مس مینجمنٹ کی وجہ سے تقریبا پچاس افراد جھلس کر ہلاک ھوئے۔ ایک سو کے قریب افراد لاپتہ ھیں۔ لمحہ فکریہ ھے کہ اس قسم کے واقعات میں جن کا نقصان ھوتا ھے انہیں زبانی جمع خرچ اور طفل تسلیوں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ میرا اسٹبلشمنٹ سے سوال ھے جو اس ملک کے اصل مالک بنے ھیں کہ کب تک عوام پر ظلم و جبر میں جعلی حکمرانوں کا ساتھ دو گے۔ ؟کب تک کرپٹ لوگوں کو سپورٹ کرو گے۔؟ آیا ! آپ لوگوں کو اللہ کے ہاں جوابدہی کا احساس ھے کہ نہیں ؟ آپ اتنے بے حس کیوں ھیں ؟ کیا آپکے گھروں میں ماں باپ ، بیوی بچے اور بہن بھائی نہیں ؟ یا پھر آپ بھی سفاک بن چکے ھیں ۔ کہ جو دیکھنے اور سننے کی صلاحیتوں سے محروم ھوچکے ھیں ۔؟ عقل حیران ھے کہ جو شہر ساٹھ فیصد کماتا ھے وہ بے یارومددگار کیوں ھے؟ بے وقعت ، بےآسرا اور لاوارث کیوں ھے ؟ ملک ہر پھودو فلیٹ کمپنی اور تاجے حکمران ھیں . کیا قوم کا مستقبل ۔ یہی معذور لوگ ھیں ؟ ۔ یاد رکھیں ! اللہ رب العزت کی عدالت آپکی منتظر ھے۔ جہاں آپکو اپنے گناہوں اور اعمال کا حساب دینا ھوگا۔ اللہ رب العزت اپنے بندوں پر کئے گئے مظالم اور ناانصافیوں کو معاف نہیں کرتے ۔ اس لئے خوف خدا کو مدنظر رکھو۔ یہ طاقت اور اقتدار ہمیشہ کے لئے نہیں ھے۔ اللہ رب العزت سے دعا ھے کہ ان ظالم جانوروں سے عوام کو چھٹکارا عطا فرمائے۔ عوام کے جان، مال ، عزت و آبرو کی خفاظت فرمائے ۔وطن عزیز کی ان درندوں کے ہاتھوں خفاظت فرمائے آمین
٭٭٭














