اب کیا ہوگا!!!

0
11
رمضان رانا
رمضان رانا

ایرانی جنگ بندی اور معاہدہ اسلام آباد بلا شبہ دنیا میں ایک ایسی نئی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا جس کے نتیجے میں گزشتہ نصف صدی سے پابندیوں کا شکار ایران عالمی تجارت کے دھارے میں دوبارہ شامل ہو جائے گا۔ اس پیش رفت سے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں جو کئی دہائیوں قبل انتہائی مستحکم تھے۔ یہ تعلقات اس وقت کے ایران میں شاہی نظام اور مذہبی قیادت کے اشتراک عمل کی بنیاد پر قائم تھے، جس کے دوران ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر پہلوی بادشاہت کو مضبوط کیا گیا تھا۔ بعد ازاں تودہ پارٹی اور نیشنل فرنٹ کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں کمزور پڑنے والے اس نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امام خمینی کی زیر قیادت انقلاب ایران برپا ہوا، جسے اب تقریباً پچاس برس مکمل ہونے کو ہیں۔ جس طرح ویت نام کے ساتھ تین دہائیوں پر محیط طویل جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور ویت نام کے مابین تعلقات استوار ہوئے اور آج وہاں امریکی منڈیوں میں ویتنامی مصنوعات کی بھرمار ہے، اسی طرح ایران اور امریکہ کے درمیان بھی نئے تعلقات کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم معاہدہ اسلام آباد کے بعد مستقبل کے حالات کا تعین کرنا فی الحال مشکل ہے کیونکہ جب تک اسرائیل کا جارحانہ کردار قابو میں نہیں آتا، ایران اپنی نظریاتی سیاست کے تحت فلسطین، حزب اللہ اور یمنی حوثیوں جیسے اتحادی گروہوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام اسرائیل کی موجودگی میں ایک پیچیدہ چیلنج ہے، جو مستقبل میں ایک خوفناک جنگ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ امریکی کانگریس اور حکومت پر اثر انداز اسرائیلی لابی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں اس خطے کے لیے مستقل خطرہ ہیں، جس کا مقصد گریٹر اسرائیل کے قیام کے ذریعے اردن، مصر، شام، لبنان اور سعودی عرب کے علاقوں کو اپنے جغرافیے میں شامل کرنا ہے۔ یہ نظریہ سلطنت کنعان کی بحالی کا ایک ایسا احمقانہ خواب ہے جس کی پیروی اگر کی گئی تو دنیا بھر میں دیگر قدیم سلطنتوں جیسے رومن، یونانی، ایرانی، مصری، اموی، عباسی، عثمانی، برطانوی اور دیگر کی بحالی کے مطالبات بھی شدت اختیار کر جائیں گے، جو تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا پر حکمرانی کر چکی ہیں۔ لہٰذا گریٹر اسرائیل کا نظریہ ایک غیر منطقی توسیع پسندی ہے جس کا انجام شکست پر ہو سکتا ہے۔ اگر امریکہ اسرائیل کو فراہم کی جانے والی تین سو بلین ڈالر کی امداد بند کر دے، تو اسرائیل کا مشرق وسطیٰ میں بے قابو کردار محدود کیا جا سکتا ہے۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اسرائیل ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانیوالے اس ممکنہ معاہدے کو تسلیم نہ کرے، جس سے اس امن کا وہی حشر ہو سکتا ہے جو اوسلو معاہدے کا ہوا تھا۔ اوسلو معاہدے کے تحت دو ریاستی حل کی تجویز دی گئی تھی، مگر اسرائیلی وزیراعظم یاتک روبین کے قتل کے بعد اس معاہدے کی روح ختم کر دی گئی۔ بہرحال جنیوا میں طے پانیوالے معاہدہ اسلام آباد کے حتمی نتائج کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا، مگر فی الحال عالمی سطح پر تیل کی قلت کے باعث دنیا بھر کی خواہش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان یہ امن معاہدہ کامیاب ہو تاکہ انسانیت کسی بڑی تباہی سے محفوظ رہ سکے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here