مقامِ حسین کے ادراک کیلئے قرآن، حدیث، تاریخ اور علامہ اقبال کے اشعار کافی ہیں!!!

0
11
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

شہادتِ امام حسین کا ذمہ دار یزید ہے جس نے گورنر مدینہ کو لکھا کہ حسین کا سر یا ہاتھ چاہئیے۔ یزید کے حامی ملوکیت کے زر خرید بے ضمیر ہیں۔ یزیدیت ملوکیت ہے اور ملوکیت یزیدیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک میں ملوکیت کی وجہ سے ذکرِ حسین پر پابندی ہے۔ آج پاکستان میں جو لوگ یزید زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں وہ نسلِ یزید ہیں اور بادشاہوں کے نمک خوار ہیں۔
ابو الکلام آزاد نے اپنی کتاب الحسین میں یزید کو قتلِ حسین سے بری الذمہ قرار دیا ہے اور سارا الزام ابنِ زیاد پر دھر دیا ہے۔ اسی طرح محمود عباسی نے اپنی کتاب خلافتِ معاویہ و یزید میں یزید کو برحق قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے کربلا پر اپنی کتاب میں لکھا کہ جب چند بڑے صحابہ کے بیٹوں نے یزید کی بیعت کر لی تھی تو امام حسین کو چاہیے تھا کہ وہ بھی یزید کی بیعت کر لیتے۔ مولانا مودودی نے اس کا جواب دے کر سب کو لاجواب کر دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ سوال یہ نہیں کہ اگر کچھ صحابہ کے بیٹوں نے یزید کی بیعت کی تھی تو امام حسین نے کیوں نہیں کی بلکہ سوال یہ ہے کہ جب امام حسین نے یزید کی بیعت نہیں کی تو صحابہ کی اولاد نے یزید کی بیعت کیوں کی؟
امریکہ میں مقیم ڈاکٹر شبیر نے اپنی کتاب داستانِ کربلا میں لکھا کہ واقعہ کربلا ہوا ہی نہیں یہ سب افسانہ ہے۔ انہوں نے یہ کتاب مجھے بھی بھیجی۔ لیکن میرے سوالات اور اعتراضات کا جواب نہ دے سکے۔ اب پاکستان میں ملوکیت کے ایجنٹ یزید زندہ باد کے نعرے لگا کر فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے لگ ہیں۔ یہ اسرائیل اور بھارت کے زر خرید کارندے ہیں۔ قائد اعظم کیخلاف بھی نازیبا زبان درازی کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے۔ مقامِ حسین کے ادراک کے لیے قرآن، حدیث، تاریخ اور علامہ کے اشعار کافی ہیں۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ابھی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک مولوی صاحب کہہ رہے ہیں کہ یزید فاسق و فاجر نہیں تھا۔
اگر وہ شرابی اور بد قماش نہیں تھا تو کیا وہ نمازی و پرہیز گار تھا؟
اْس کے کردار کے بارے میں تاریخ کیا کہتی ہے؟
مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت، جلال الدین سیوطی کی کتاب تاریخ الخلفہ اور محمد ابنِ جریر طبری کی کتاب تاریخ طبری کیا کہتی ہے؟
میرا حکومتِ وقت سے مطالبہ ہے کہ وہ ایسے اسلام دشمن اور پاکستان کے مخالفوں کو قانونی دائرے کے اندر قرارِ واقعی سزا دے اور ملک کو فرقہ وارانہ تباہی سے بچائے۔ اس میں کسی فرقہ سے رعایت نہ برتی جائے۔ جس مسلک کا مولوی انتشار پھیلائے اسے سخت سزا دی جائے۔ بصورتِ دیگر پاکستان دشمن طاقتیں پاکستان کو قبرستان بنانے کے ناپاک منصوبے بنا چکی ہیں۔ اللہ پاکستان کا محافظ و ناصر ہو۔ آمین!
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here