سعودی عرب ؛بیروزگاری کم ترین سطح پر

0
2

نیویارک (پاکستان نیوز)سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے رواں سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں جن کے مطابق مملکت میں مقامی شہریوں کے لیے بے روزگاری کی شرح 6.4 فیصد تک گر گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار سعودی معیشت کی مضبوطی اور ویژن 2030 کے اہداف کی جانب پیش رفت کا واضح ثبوت ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خواتین میں بے روزگاری کی شرح نمایاں طور پر کم ہو کر 9 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ سعودی مردوں کے لیے یہ شرح 4.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی طور پر، مملکت میں بے روزگاری کی شرح، جس میں غیر ملکی کارکن بھی شامل ہیں، 3.1 فیصد تک آ گئی ہے جو کہ 2025 کی آخری سہ ماہی کے 3.5 فیصد کے مقابلے میں بہتری کی عکاس ہے۔ لیبر فورس میں شرکت کی شرح سعودی شہریوں کے لیے 49 فیصد رہی ہے۔ نوجوانوں میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے، جہاں 15 سے 24 سال کی عمر کی سعودی خواتین میں بے روزگاری کی شرح 20.4 فیصد اور مردوں میں 13.8 فیصد رہی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبر مارکیٹ میں اصلاحات اور نجی شعبے میں مقامی افراد کی شرکت بڑھانے کے حکومتی اقدامات کے نتیجے میں یہ تاریخی نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ ڈیٹا سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بے روزگار افراد ملازمت کے حصول کے لیے زیادہ تر آجروں سے براہ راست رابطہ کرنے یا قومی روزگار پلیٹ فارم جدارات جیسی جدید سہولیات پر انحصار کر رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بے روزگاری کی شرح میں 12.2 فیصد سے 6.4 فیصد تک کی یہ گراوٹ سعودی عرب کی معاشی تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here