واشنگٹن (پاکستان نیوز)رائے شماری کے مطابق ٹرمپ کی مجموعی عوامی مقبولیت میں شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے اور ان کی کارکردگی سے رضامند افراد کا تناسب گھٹ کر صرف 35 فیصد رہ گیا ہے? خبر رساں ادارے رائٹرز اور اِپسوس کے مشترکہ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ ایران کے ساتھ عسکری کشیدگی اور پیٹرول و توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے سبب معاشی مسائل نے صدر ٹرمپ کے لیے سنگین چیلنجز کھڑے کر دئیے ہیں? روزمرہ کی زندگی میں بڑھتی گرانی کے باعث معاشی پالیسیوں پر عوام کا بھروسہ مسلسل ڈگمگا رہا ہے?
اس سروے کی اہم بات یہ ہے کہ معیشت کو بہتر انداز میں چلانے کے معاملے پر ڈیموکریٹک پارٹی نے گزشتہ 10 برسوں میں پہلی بار ریپبلکن پارٹی پر برتری حاصل کر لی ہے۔ سروے میں شامل 42 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا ہے کہ اگر آج انتخابات ہوں تو وہ ڈیموکریٹک امیدوار کا انتخاب کریں گے، جبکہ 37 فیصد افراد نے ریپبلکنز کی حمایت کا اظہار کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق معیشت اور ایران تنازع کے اثرات نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے کنٹرول کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ رائے شماری بدھ سے پیر کے درمیان کی گئی جس میں 4505 بالغ امریکیوں کی رائے شامل کی گئی۔ نتائج میں معمولی شماریاتی غلطی کا امکان بھی موجود ہے۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رائے شماری کے ان تمام اعداد و شمار کو یکسر رد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حقیقی مقبولیت میڈیا کے بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ بلند ہے۔






