امریکہ کا 5 قونصل خانوں کو بند کرنے کا فیصلہ، چین کا اثر و رسوخ مزید بڑھنے کا خدشہ

0
5

واشنگٹن(پاکستان نیوز)محکمہ خارجہ نے اخراجات میں کمی اور خارجہ پالیسی کے ازسرنو جائزہ کے تحت دنیا کے 5 مختلف ممالک میں واقع اپنے قونصل خانوں اور سفارتی مشنز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس کو بھیجی گئی سرکاری اطلاع کے مطابق یہ فیصلے کینیڈا کے شہر ونی پیگ، گریناڈا کے دارالحکومت سینٹ جارج، جاپان کے شہر ناگویا، انڈونیشیا کے شہر میدان اور کیمرون کے شہر دوالا میں موجود امریکی سفارتی دفاتر پر لاگو ہوں گے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی زیر نگرانی یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب غیر ملکی سفارتی مشنز کے ڈھانچے میں مسلسل کٹوتی کی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس محکمہ خارجہ نے 1300 سے زائد ملازمین کو برطرف کیا تھا، جبکہ دنیا بھر میں تعینات 195 سفیروں کے عہدوں میں سے نصف سے زائد تاحال خالی پڑے ہیں، جن میں جرمنی، پاکستان اور سعودی عرب جیسے اہم ممالک بھی شامل ہیں۔ اس امریکی فیصلے پر شدید سیاسی اور سفارتی تنقید کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اس پیچھے ہٹنے کی پالیسی سے پیدا ہونے والے خالی پن کا براہ راست فائدہ چین اٹھائے گا۔ امریکی سینیٹ کی غیر ملکی تعلقات کی کمیٹی کی سینئر رکن جین شاہین کا کہنا ہے کہ جن 5 مقامات پر امریکی دفاتر بند کیے جا رہے ہیں، ان میں سے 3 جگہوں پر چین کا سفارتی وجود پہلے سے قائم ہے اور بیجنگ اس موقع کو امریکی مفادات کو زدوکوب کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ کینیڈا اور دیگر علاقوں میں مقامی ماہرین نے بھی اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے باہمی تجارتی اور سیاسی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ان خدشات کو رد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ تمام اقدامات امریکی وسائل کو زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here