ابراہیمی معاہدہ کیا ہے اور اس کے مشرقِ وسطیٰ پر ہونیوالے اثرات کا تفصیلی جائزہ

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز)امریکی ثالثی میں ہونیوالے ابراہام معاہدے کے تحت اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی و تجارتی تعلقات خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں۔مشرق وسطی کی سیاست میں پندرہ ستمبر دو ہزار بیس کو اس وقت ایک بڑی تبدیلی دیکھی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ابراہام معاہدے پر دستخط کیے۔ بعد ازاں سوڈان اور مراکش نے بھی اس عمل کا حصہ بنتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی روابط استوار کیے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے کے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تجارتی، سفارتی اور معاشی تعلقات کو ایک نیا رخ دینا ہے۔ اس شراکت داری کی واضح مثال متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایک اسرائیلی سرمایہ کاری فنڈ کا قیام ہے جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق ان معاہدوں کے بعد دونوں ممالک نے سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے مضبوط راستے تیار کیے ہیں۔ خلیجی ممالک کے رہنما اب یہ محسوس کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ترقی کے لیے انہیں تیل پر انحصار کم کر کے جدید ٹیکنالوجی، زراعت اور پانی کے بہتر استعمال کے ذرائع کی ضرورت ہے، اور یہ تمام صلاحیتیں اسرائیل کے پاس موجود ہیں۔ اسی مشترکہ مفاد کے تحت دونوں فریقین ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ معاہدے کے بعد اسرائیل کی ہتھیاروں کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ صرف دو ہزار اکیس میں اسرائیل نے گیارہ اعشاریہ تین بلین ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کیے، جن میں سے سات فیصد یعنی سات سو اکیانوے ملین ڈالر کے ہتھیار متحدہ عرب امارات اور بحرین نے خریدے۔ یہ دفاعی تعاون اب مزید گہرا ہو رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال اماراتی سرکاری دفاعی گروپ کی جانب سے ایک اسرائیلی فوجی سپلائر کمپنی میں تیس فیصد حصص کی خریداری ہے جس کی مالیت دس ملین ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ اماراتی انرجی کمپنیاں اسرائیلی توانائی کے شعبے میں ایک بلین ڈالر تک کی بڑی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے حکام کا مؤقف ہے کہ اس سفارت کاری اور رابطوں کا اصل مقصد مشرق وسطی میں استحکام، خوشحالی اور امید کی نئی لہر کو فروغ دینا ہے تاکہ خطے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں اور ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here