700 ملین ڈالرکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ

0
3

کراچی(پاکستان نیوز) پاکستان کے بیرونی شعبے پر ایک بار پھر دباؤکے آثار سامنے آئے ہیں، کیونکہ فروری میں بہترکارکردگی کے باوجودمالی سال 2026 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلاگیا،جو حالیہ معاشی استحکام کی کمزوری کو ظاہرکرتاہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیلنس آف پیمنٹس کے تازہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی تا فروری 2026 کے دوران پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 700 ملین ڈالر خسارے میں رہا،جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 479 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈکیاگیا تھا،تاہم فروری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 427 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈکیاگیا،جو فروری 2025 کے 85 ملین ڈالر خسارے اور جنوری 2026 کے 68 ملین ڈالر سرپلس کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مارچ 2025 کے بعد سب سے بڑاماہانہ سرپلس ہے۔ اعداد وشمارکے مطابق پاکستان کے بیرونی کھاتے پر سب سے بڑادباؤاشیاء کی تجارت کے خسارے کی وجہ سے ہے،فروری میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 2.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،کیونکہ برآمدات 2.48 ارب ڈالررہیں، جبکہ درآمدات 5.15 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ بڑھ کر 21.08 ارب ڈالر ہوگیا،جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 16.49 ارب ڈالر تھا۔ اس عرصے میں برآمدات 20.74 ارب ڈالر رہیں،جبکہ ایک سال پہلے یہ 21.94 ارب ڈالر تھیں، دوسری جانب درآمدات بڑھ کر 41.82 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی تا فروری کے دوران ترسیلاتِ زر 26.49 ارب ڈالر رہیں، جو پاکستان کے بیرونی کھاتے کیلیے بڑاسہارا ثابت ہوئیں۔ ماہرین کاکہناہے کہ اگر یہ ترسیلات نہ ہوتیں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کہیں زیادہ ہوسکتا تھا، صرف ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں پر انحصار معیشت کے دیرپااستحکام کیلیے کافی نہیں، پاکستان کی برآمدات اب بھی زیادہ ترکم ویلیو ایڈڈ شعبوں خصوصاً ٹیکسٹائل تک محدودہیں،جہاں علاقائی ممالک سے سخت مقابلہ ہے۔ اسی طرح پرائمری انکم اکاؤنٹ میں بھی دباؤبرقراررہا،جولائی تافروری کے دوران اس کھاتے میں 5.64 ارب ڈالرکاخسارہ ریکارڈکیاگیا،جس کی بڑی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع کی منتقلی اور بیرونی قرضوں پر ادائیگیاں ہیں،مالیاتی کھاتے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محدود رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب تک برآمدات میں تنوع،صنعتی پیداوار میں بہتری اور توانائی کے مؤثر استعمال کیلیے بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، پاکستان کابیرونی کھاتہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤاوردرآمدی دباؤکے باعث غیر مستحکم ہی رہے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here