جیل کی دیواروں سے باہر ایک آواز!!!

0
9
شمیم سیّد
شمیم سیّد

پاکستان کی سیاست میں عمران خان کا نام محض ایک سیاسی رہنما کے طور پر نہیں لیا جاتا ان کی شخصیت کیساتھ کرکٹ، قومی وقار، سیاسی مزاحمت اور عوامی مقبولیت کی کئی دہائیاں جُڑی ہوئی ہیں یہی وجہ ہے کہ جب اُن کے بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان نے اسکائی اسپورٹس کے پروگرام میں اپنے والد کے بارے میں گفتگو کی تو اس انٹرویو نے سیاست سے کہیں آگے بڑھ کے انسانی اور جذباتی سوالات کو جنم دیا۔ ایک طرف عمران کے بیٹوں کی آواز تھی جو اپنے والد کی صحت اور جیل میں حالات کے بارے میں فکر مند دکھائی دیئے اور دوسری طرف پاکستان کے عظیم کرکٹر جاوید میاں داد کی دلی جذبات کی آواز سنائی دی جس میں ایک پرانے ساتھی کیلئے درد محسوس کیا جا سکتا تھا اور یہ کوئی بناوٹی نہیں تھامیاں داد جس طرح عمران خان کی طویل علالت اور جیل میں سزا کو دلی طور پر ان کی آواز اور آنسو بتا رہے تھے کہ وہ واقعی دل کی گہرائیوں سے عمران خان کی تکلیفات اور درد کومحسوس کر رہے تھے ان کی آواز ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ایک ایک جملہ میں درد تھا۔ دوست سے محبت جھلک رہی تھی اور ان کا یہ جملہ تو لوگوں کے دلوں کو چیر گیا کہ اگر عمران خان کو چھوڑ دیا تو کیا وہ پاکستان کو کھا جائیگا کیا ہوگا وہ ایماندار شخص ہے مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے اسے اگر وہ بے ایمان ہوتا تو نہ جانے کیا کچھ کر سکتا تھا لیکن وہ بے ایمان نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں واقعات نے جو تاثر چھوڑا ہے کہ عمران خان کی شخصیت نے آخر کار ایسا کیا اثر چھوڑا ہے کہ سیاست سے باہر کے لوگ آج بھی ان کی حالت پر بات کرنے پر مجبور ہیں۔ عمران خان کے بیٹوں کیلئے یہ معاملہ کسی سیاسی جماعت یا انتخابی سیاست کا نہیں ان کیلئے وہ شخص جس کا ذکر دنیا بھر میں سیاستدان کے طور پر ہوتا ہے سب سے پہلے ان کا والد ہے ایک بیٹے کیلئے اپنے والد کو مشکلات میں دیکھنا اور اس سے دور رہنا ایک ایسی کیفیت ہے جسے سیاسی نعروں سے نہیں سمجھایا جا سکتا۔ اس انٹرویو کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ عمران خان خود پاکستان کی کرکٹ کے ہیرو رہے ہیں جس نے پاکستان کو 1992ء میں ورلڈکپ جتوایا۔ آج اپنی زندگی کا ایک مختلف اور مشکل مرحلہ جیل میں گزار رہا ہے کھیل کے میدان میں بھی ان کی سب سے بڑی طاقت ان کا حوصلہ تھا جبکہ سیاست میں بھی انہوں نے خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو دبائو کے سامنے جھکنے سے انکار کرتاہے یہی پہلو میاں داد کے بیان میں نمایاں نظر آتا ہے عمران خان کیساتھ برسوں کرکٹ کھیلنے والے میانداد انہیں صرف ایک سابق کپتان کے طورپر نہیں دیکھتے ان کیلئے عمران ایک ایسا ساتھی ہے جس کا ساتھ انہوں نے پاکستان کرکٹ کے یاد گار دور کا حصہ بن کر وقت گزارا ہے۔ میانداد کا عمران خان کے بارے میں جذباتی انداز میں بات کرنا اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ سیاست کے اختلافات اپنی جگہ، لیکن انسانی تعلقات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں کسی شخص کی سیاسی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کیساتھ انسانی سلوک اور انصاف کا سوال الگ حیثیت رکھتا ہے۔ عمران خان کی قید نے پاکستان میں ایک اور بڑی بحث کو جنم دیا ہے کیا سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل ہونا چاہیے۔ عمران خان کی کہانی اب صرف عمران خان کی کہانی نہیں رہی ان کے بیٹے لندن سے اپنے والد کی بات کرتے ہیں ایک سابق کرکٹر اپنے پرانے ساتھی کیلئے آواز اٹھاتا ہے پوری دنیا کے 21 سابق کرکٹ کے کپتانوں نے بھی وزیراعظم کو اپنے دستخطوں سے خط بھیجا ہے جس میں یہی احتجاج ہے کہ اس کو طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ سیاست کے بہت سے واقعات تاریخ کے صفحات میں دب جاتے ہیں لیکن کچھ واقعات قوموں کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں جیل کی دیواریں کسی انسان کو جسمانی طورپر محدود کر سکتی ہیں لیکن خیالات اور سوالات کو ہمیشہ قید نہیں کیا جا سکتا۔ عمران خان کے بیٹوں کی آواز اور جاوید میاں داد کے جذباتی الفاظ اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہیں آخر کار فیصلہ وقت کریگا کہ عمران خان کی سیاسی میراث کو تاریخ کس نظر سے دیکھتی ہے لیکن کا سوال شاید اس سے بھی بنیادی ہے اختلاف رکھنے کے باوجود ہم ایک دوسرے کے انسانی حقوق، عزت اور انصاف کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہی سوال عمران خان کی قید سے کہیں بڑا ہے اور یہی شاید پاکستان کی جمہوری جدوجہد کا اصل امتحان بھی ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here