واشنگٹن (پاکستان نیوز)ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے 75 ممالک پر عائد کی گئی ویزا پابندی کو وفاقی عدالت کی طرف سے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ملک کا امیگریشن نظام سخت انتظامی اور قانونی الجھنوں کا شکار ہو گیا ہے۔ اس تناظر میں واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالت میں ایک اہم سماعت کے دوران امیگریشن وکیل نے امریکی وزارت انصاف کے تاخیری حیلے بہانوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کا مذاق اڑایا۔ نیویارک کی جنوبی ڈسٹرکٹ کی جج جینیٹ ورگاس نے 21 اگست کو 75 ممالک کے شہریوں پر عائد ویزا معطلی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا۔ تاہم، جب اس سے متاثرہ ایک اور کیس کی سماعت واشنگٹن ڈی سی میں جج ٹیوتھی کیلی کے سامنے ہوئی تو حکومتی اور مدعی کے وکلا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ جج کیلی نے یہ تجویز دی کہ چونکہ نیویارک کی عدالت فیصلہ دے چکی ہے اور حکومت کی اپیل کا انتظار ہے، اس لیے اس کیس کو وقتی طور پر ملتوی یا روک دیا جائے۔ وزارت انصاف کے وکیل نے جج کی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مختلف معاملات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور کیس کو فی الحال روکنا ہی بہتر ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویزا کارروائی میں تاخیر سے کسی نقصان کا اندیشہ صرف خیالی ہے اور عمل درآمد کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔ اس موقف پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مدعی کے امیگریشن وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل گواتیمالا میں پھنسا ہوا ہے اور علاج کے بعد حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے۔ انہوں نے وزارت انصاف کے وکیل کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف ہوائی باتیں سن رہا ہوں، زمین پر کیا ہو رہا ہے اس کا کوئی ذکر نہیں۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ وزارت انصاف کے یہ دلائل انتظامی قانون کی کلاس میں پڑھانے کے لیے تو دلچسپ ہو سکتے ہیں لیکن عدالت کی اپنی ذمہ داری ہے اور غیر قانونی حکم کی بنیاد پر ویزا روکنا سراسر ناانصافی ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ کیس ملتوی کرنے کے بجائے حکومت کو فوری طور پر ویزا جاری کرنے کا حکم دے۔











