واشنگٹن (پاکستان نیوز)ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی تازہ ترین کوشش کو ایک وفاقی عدالت نے سخت الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ میری لینڈ کی امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیبورا بورڈمین نے اپنے ایک اہم فیصلے میں صدر ٹرمپ کے اگست میں دستخط کیے گئے صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد پر عبوری حکمِ امتناع جاری کر دیا۔ جج کے مطابق یہ صدارتی حکم نامہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کی اس ضمانت کو معطل کرنے کی دوسری ناکام کوشش تھی جو امریکہ میں پیدا ہونیوالے تمام بچوں کو خود بخود شہریت کا حق دیتی ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کے محض ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے جس میں صاف طور پر واضح کیا گیا تھا کہ غیر قانونی یا عارضی طور پر مقیم والدین کے بچوں کو پیدائشی طور پر امریکی شہریت حاصل ہوتی ہے۔ جج بورڈمین نے فیصلے میں لکھا کہ کوئی بھی صدارتی حکم نامہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو منسوخ نہیں کر سکتا اور صدر کے لیے عدالتِ عظمیٰ کے قانون کی پاسداری لازمی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس مؤقف کو مسخ شدہ قرار دیا جس کے تحت غیر ملکی دشمنوں، غیر ملکی ملازمین یا مخصوص سیاحت کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ عدالت نے وینزویلا اور میکسیکو کی دو مائوں کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدامات سے معصوم بچوں پر غلط لیبل لگنے کا خطرہ ہے۔










