تشویشناک صورتحال!!!

0
8
جاوید رانا

گزشتہ کالم میں جشن آزادی کے حوالے سے ہم نے عرض کیا تھا کہ قومی نغموں اور عالمی سطح پر ثالثی و سفارتکاری کردار گھر میں برپا بے چینی و انتشار کا مداوا نہیں بن سکتے، گھرکی بہتری کیلئے افتراق و ہوس حاکمیت کے زہر کو ختم کرنا اور عملاً ایک قوم بننا ہوگا۔ ہمارے اس مؤقف پر بعض کرمفرمائوں نے اپنے تحفظات کے اظہار میں قومی نغموں اور کامیاب سفارتکاری کو وطن سے اخوت، محبت کے جذبے کا اظہار اور اکناف عالم میں کامیابی و مثبت چہرے کی عکاسی قرار دیا ہے، ہمیں اس دلیل سے ہر گز انکار نہیں، تاہم اگر گھر میں آگ لگی ہو تو محلے کا تحفظ اولیت قرار دیا جائیگا یا گھر کی آگ بجھائی جائے گی۔ عقلمندی کا تقاضہ تو یہی ہے لیکن جب حرص و ہوس اور خود غرضی نیت میں ہو اور سوچ یہ ہو کہ ایک چھوٹے نقصان کے بدلے بڑی منفعت ہوگی تو حالات وہی ہوتے ہیں جو فی الوقت وطن عزیز کے ہیں۔
ہم نے گزشتہ کالم کی سرخی محض ایک دعا کے طور پر نہیں لگائی تھی بلکہ ملک کے گزشتہ 78 برسوں کے حالات کے پیش نظر صمیم قلب سے رب تعالیٰ سے التجاء کی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد جمعیت الاسلام ہند اور کانگریس کے رہنما مولانا ابو الکلام آزاد نے پیشگوئی کی تھی کہ پاکستان پچیس برس میں دو لخت ہو جائیگا اور خاکم بدھن 70 برسوں کے بعد ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائیگا۔ ہمارا یقین و ایمان اس پر ہے کہ نظریۂ اسلام پر قائم ہونے والی ریاست تا قیامت بلکہ تا ابد قائم رہے گی لیکن کیا کیجئے کہ یقین محکم کے باوجود جن حالات سے اس وقت میرا وطن گزر رہا ہے وہ کسی طرح بھی سازگار نہیں۔ تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ 78 بلکہ 79 برسوں میں وطن کی قسمت کے فیصلے عوام کی رضا کے مطابق نہیں مقتدرین کی مرضی و چوائس کے مطابق ہوتے رہے ہیں۔ مارشل لائ، بنیادی جمہوریت، ریفرنڈم سے لے کر ہائبرڈ تک نظام کے نام پر اقتدار کا سلسلہ تا ہنوز جاری ہے، افسوس اس پر ہے کہ اس سارے کھیل میں جمہوریت، عوام، آئین، قانون و انصاف کی مالا جپنے والے بزرجمہرکٹھ پتلیوں کا کردار اپنے مقاصد و اغراض اور مفادات کی خاطر خوشی خوشی ادا کرتے رہے ہیں۔
تفصیل سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا عرض کیا جا سکتا ہے کہ اپنے اقتدار کے برقرار رکھنے کیلئے نہ صرف آئین کا حلیہ بگاڑنے کا تسلسل جاری ہے بلکہ انصاف، حق کی آواز بلند کرنے کے حوالے سے تمام ذرائع پابند و مسدود ہیں۔ حالات حاضرہ کے حوالے سے جائزہ لیں تو ایک جانب تو عوام کی مشکلات اس نہج پر پہنچ چکی ہیں جہاں ان کیلئے نان و شیر لانا اور زندگی گزارنا ناممکن ہے تو دوسری جانب محفوظ سرحدیں اور شہریوں کا تحفظ اپنے محال نظیر آتا ہے۔ لاء اینڈ آرڈر کی ذمہ داریاں آقائوں کی حفاظت اور یس سر تک مخصوص ہیں۔ انصاف مقتدرین کی خواہش و مرضی کے تابع فیصلوں پر مجبور ہے۔ دوسری جانب نام نہاد حکومتیں عوام کے برعکس فیصلہ ساز کے اشارہ ابرو اور مفادات کیلئے عمل پیرا کہ انہیں اپنے وجود کو برقرار رکھنا ہے۔ دوسرے حزب اختلاف کا کردار بھی عوام اور وطن کے حق میں نہیں نظر آتا، زبانی کلامی احتجاج تک محدود اور اپنا وجود برقرار رکھنا ہی ہے۔
وطن عزیز کے موجودہ حالات کی تصویر ہمیں افتخار عارف کے اس شعر میں واضح نظر آتی ہے، ”دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو، کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو”۔ تیرہ شبی اور وحشتوں کا جو تازہ سلسلہ مقتدرین کے خاص الخاص وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نظام کی تبدیلی کے انکشاف اور نئے ایڈمنسٹریٹو صوبوں کے قیام کے انکشاف سے شروع ہو کر آزاد کشمیر کی صورتحال و الیکشن، خان کے سپریم کورٹ کے حکم پر چیک اپ کے مرحلے پر حکم عدولی اور گزشتہ ہفتے پمز ہسپتال کے حادثے اور تحقیقاتی رپورٹ تک پہنچا اس کی تفصیل آپ تک پہنچ چکی ہے، حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے ہماری سوچ یہ ہے، نظام کی تبدیلی کیلئے ری سیٹ کا فیصلہ ہو چکا ہے، 28 ویں ترمیم کے ذریعے سندھ کی اپوزیشن کے باوجود نئے صوبوں کا قیام بھی ناگزیر ہوگا، نتیجتاً ٹیکنوکریٹ حکومت اور مقتدر اعلیٰ کی صدارت کیساتھ موجودہ وزیر داخلہ کے حصے میں وزارت عظمیٰ کا ہما ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو نہ سنبھال سکنے والا کیا وطن عزیز کے حالات سنبھال لے گا یا پھر عوام ڈاکٹر پیر زادہ قاسم کے مطابق!
قوم اگر طلب کرے تم سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو
٭٭٭٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here